لطیفہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۹
ایسی تمام قو میں اپنے حق میں استدلال کی طاقت سے محروم ہوگئیں ، ان کے لئے اس کے سوا چارہ نہ رہا کہ وہ مغرب کے فکری یلغار کے آگے ہتھیار ڈال دیں۔
شہنشاہ میجی کے عہد سلطنت (۱۹۱۲ - ۱۸۶۸) میں ایک طرف جاپانی شہروں کی تعمیر کے لئے یورپ اور امریکہ کے عمارتی نقشے درآمد ہونا شروع ہوئے۔ دوسری طرف وہاں کے نظریات و افکار بھی جاپان پہنچے جن میں آزادی رائے کا نظریہ سرفہرست تھا۔ اس کے اثر سے سابق فیصلے پر نظرثانی ہونے لگی۔ ۱۸۷۳ میں خلاف مسیحیت قانون کو منسوخ کر دیا گیا۔ میں مغربی طرز کا دستور بنا جس میں جاپانیوں کے لئے مذہبی آزادی کا اعلان کیا گیا ۔ اب پھر یورپ اور امریکہ کے عیسائی مشنری جاپان پہنچنے لگے ، اور عیسائیت کی تبلیغ دوبارہ شروع ہوئی۔ تاہم بے پناہ سرمایہ خرچ کرنے کے باوجود عیسائی مذہب اختیار کرنے والوں کی تعداد میں کوئی نمایاں اضافہ نہ ہوسکا۔
زمانہ کے فکری دباؤ کے تحت قانون میں تبدیلی تو ہو گئی۔ مگر جاپان کے ہوش مند لوگ اب بھی مخالف تھے کہ عیسائیت کی تبلیغ کی آزادی دینا ملک میں مغربی استعمار کے داخلہ کا سبب نہ بن جائے ۔ چنانچہ انیسویں صدی کے آخر میں جب عیسائیت کے خلاف قانون کو ختم کیا گیا ، اسی زمانہ میں حکومت جاپان نے کچھ ایسی حفاظتی تدبیریں بھی کیں جن سے عیسائیت کو سیاسی خطرہ کی حد تک جانے سے روکا جاسکے ۔ انھیں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ شہنشاہ جاپان (میجی) نے ۱۸۹۰ میں ترکی خلیفہ سلطان عبد الحمید ثانی (۱۹۱۸ - ۱۸۷۶) کے نام ایک خصوصی مکتوب روانہ کیا۔ اس نے اپنے تعلق کا اظہار کرتے ہوئے سلطان ترکی کو لکھا تھا : " ہم دونوں مغربی بادشاہ رہیں۔ ہماری اور ہماری قوم کی مصلحت یہ ہے کہ ہم دونوں ایک دوسرے سے قریب ہوں ۔ اور ملتے ہیں۔ اور ہم دونوں کے درمیان تعلقات مضبوط ہوں تاکہ ہم مغربی قوموں کا مقابلہ کر سکیں جو تمام مشرقی سلطنتوں کو ایک نظر سے دیکھتی ہیں ۔ آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے یہاں مذہبی آزادی ہے ، اس سے فائدہ اٹھا کر مشرقی قومیں اپنا مذہب پھیلانے کے لئے جاپان میں اپنے مبلغین بھیج رہی ہیں۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ آپ لوگ ایسا نہیں کرتے۔ ہم پسند کریں گے کہ آپ اپنے مبلغین یہاں بھیجیں جو آپ کا مذہب اسلام یہاں کے لوگوں کو بتائیں ۔ اس طرح ! امید ہے کہ آپ کے اور ہمارے درمیان معنوی رشتہ قائم ہو گا۔ شہنشاہ جاپان کی طرف سے خط ملنے کے بعد سلطان عبد الحمید نے شیخ الاسلام ، ناظر المعارف اور دوسرے علماء اور اہل فکر کو جمع کیا اور پوچھا کہ اس معاملہ میں کیا کیا جائے۔ لوگوں نے رائے دی کہ آستانہ (ترکی) میں جو اسلامی مدارس ہیں، ان سے کچھ علماء منتخب کئے جائیں اور ان کو جاپان بھیجا جائے۔ اس مجلس میں سید جمال الدین افغانی (۱۸۹۷ بھی شریک تھے ۔ آخر میں سلطان نے کہا کہ آپ بھی اپنی رائے دیں۔ انھوں نے کہا : یہ علماء تو خود مسلمانوں کو اسلام سے دور کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ پھر وہ جاپانیوں کو اسلام سے قریب کرنے کا سبب کیسے بنیں گے۔ بہتر یہ ہے کہ کچھ لوگوں کو باقاعدہ تربیت دے کر تیار کیا جائے جو موجودہ زمانہ کی رعایت سے اسلام کی تبلیغ کی خصوصی صلاحیت رکھتے ہوں۔ پھر ان کو جاپان میں اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لئے بھیجا جائے ۔ اس وقت سلطان صرف یہ کریں کہ
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues