لطیفہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۱۰
میکاڈو (شہنشاہ جاپان) کے جواب میں شکریہ کا خط بھیج دیں اور یہ لکھ دیں کہ آپ کی رائے بہت مناسب ہے۔ ہم جلد ہی اس کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔ چنانچہ سلطان نے کچھ تحفہ تحائف کے ساتھ ایک خط شہنشاہ جاپان کو بھیج دیا۔ (حاضر العالم الاسلامی، از امیر شکیب ارسلان)
فرانسس زاویر (۱۵۵۲ء۔ ۱۵۰۶ء) جب ۱۵۴۹ء میں گو اسے جاپان پہنچا تو مخالف حالات کے باوجود اس نے جاپانی زبان سیکھی اور مسیحیت کی تبلیغ شروع کی۔ مگر موافق حالات کے باوجود عالم اسلام میں کوئی جاپانی زبان سیکھنے کے لئے نہ اٹھا۔ سید جمال الدین افغانی اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے اس کام کے لئے موزوں ترین شخص تھے۔ سلطان عبدالحمید ان سے بے پناہ عقیدت رکھتا تھا۔ اگر وہ سلطان سے کہتے کہ آپ ایک ادارہ قائم کر دیجئے۔ میں اس کو چلاؤں گا اور اس میں جاپانی زبان میں اسلامی کتابوں کے ترجمے اور جاپان میں تبلیغ کرنے والے افراد تیار کروں گا تو سلطان فوراً راضی ہو جاتا۔ مگر جمال الدین افغانی کو اپنے سیاسی مشاغل سے فرصت نہ تھی۔ ان کے نزدیک سب سے بڑا کام یہ تھا کہ انگریزی اور فرانسیسی استعمار کو ”قبر میں اتار دیا جائے“۔ وہ مغربی قوموں کا سیاسی اقتدار ختم کرنے کے لئے بے چین تھے۔ ایسی حالت میں کفر و شرک کو دنیا سے ختم کرنے کی بے چینی ان کے اندر کس طرح پرورش پاتی۔
مولانا عبد الماجد دریا بادی (۱۹۷۷ء - ۱۸۹۲ء) کے دادا مفتی محمد مظہر کریم صاحب اپنے وقت کے ایک ممتاز عالم تھے۔ ۱۸۵۷ء کے ہنگامہ میں علماء نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا جو فتویٰ دیا، اس پر ان کے بھی دستخط تھے۔ اودھ کے دوسرے علماء مثلاً مولانا فضل حق خیر آبادی، مفتی عنایت احمد (مؤلف علم الصیغہ) وغیرہ کے ساتھ انہیں بھی جس دوام بعبور دریائے شور کی سزا ملی۔
قید کے زمانہ میں کوئی کام نہیں تھا۔ چنانچہ مولانا مظہر کریم صاحب نے ایک ضخیم عربی کتاب کا اردو ترجمہ کر ڈالا۔ وہاں کے انگریز افسر کو اس کی خبر ملی تو اس نے اس کو ایک علمی کارنامہ “ قرار دیا، اور اتنا خوش ہوا کہ حکومت سے ان کے حق میں پر زور سفارش کی۔ اس سفارش کے بعد اگر چہ فوری طور پر ان کی رہائی نہ ہوسکی تاہم ان کی قید کی میعاد میں کافی کمی کردی گئی ۔ سیاسی حریف کی حیثیت سے انگریز مولانا مظہر کریم کا دشمن تھا، علمی اور تعمیری کام کرنے والے کی حیثیت سے وہ ان کا دوست بن گیا۔
یہ چھوٹا سا واقعہ ہماری جدید تاریخ کی تصویر ہے۔ جن میدانوں میں ہمارے لئے کام کے مواقع تھے، وہاں کام کرنے سے ہم کو کوئی دلچسپی نہیں ہوئی، اور جس میدان میں کام کا موقع نہیں ہے، وہاں ہم اپنا سر ٹکرا رہے ہیں۔ مزید نادانی یہ کہ اس لا حاصل کام کا نام ہم نے جہاد رکھ لیا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues