Al-Risala · March 1977 · page 16

شیخ حسن البناء اور فلسطین

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۱۶

کے درختوں کو اگنے دیا جائے تو وہ تر درختوں کا باغ بن جائے گا اور کوئی پھل نہیں دے گا کیونکہ پھل ہمیشہ مادہ درختوں میں لگتا ہے۔

پپیتہ کی باغبانی کے لئے منصوبہ بندی ضروری ہے یعنی ہر سال پودے لگائے جائیں اور ضروری تناسب پپیته ایک نفع بخش تجارت دیہات میں پپیتے کے درخت ادھر ادھر کھڑے ہوئے نظر آتے ہیں جن میں پھل نہیں ہوتے۔ کسان عام طور پر سمجھ لیتے ہیں کہ یہ "بانجھ" پپیتے ہیں اس لئے پھل نہیں دے رہے ہیں۔ مگر یہ بات صحیح نہیں۔ اصل یہ ہے کہ پپیتے کے درختوں میں اکثر نر وہ ہوتے ہیں جن کو علم نباتات کی اصطلاح برقرار رکھنے کے لئے نر درختوں کو کاٹا جاتا ہے اور ان کی جگہ پر مادہ درختوں کو لگایا جاتا ہے۔ ایک باغ میں عام طور پر چند نر درخت کافی ہو جاتے ہیں۔ پھول آنے سے قبل نر اور مادہ درختوں میں تمیز نہیں ہوتی۔ تاہم چھ ماہ کی عمر کو پہنچ کر بآسانی تمیز ہو جاتی ہے جب کہ پپیتہ میں پھول آنے لگتے ہیں۔ مادہ کے مقابلہ میں، نر درخت تقریباً ایک ماہ پہلے پھول دے دیتا ہے۔ نر پودے کے پھول لمبی لمبی ڈنڈیوں میں لگے ہوتے ہیں۔ مادہ اور دو زرو جیا کے پھول ڈنڈی دار نہیں ہوتے اور بالعموم تین گچھوں کی شکل میں ہوتے ہیں۔ اس طرح پہچان کر نر پودے نکال دیئے جاتے ہیں اور ان کی جگہ مادہ پودے لگادیئے جاتے ہیں۔ نر اور مادہ کی قطعی پہچان پھول ہی سے ہوتی ہے۔

برصغیر ہند میں پپیتیہ کو پرتگالی تقریباً تین سو سال پہلے وسطی امریکہ سے لائے تھے۔ چونکہ گرم اور مرطوب آب و ہوا اس کے لئے موزوں ہے، اس لئے ہندوستان میں اس کی کاشت بہت کامیاب رہی۔ پپیتیہ سخت سردی برداشت میں یک زوجیا DIOECIOUS کہا جاتا ہے یعنی ان کے نر اور مادہ پھول الگ الگ درختوں میں ہوتے ہیں ۔ (ایک ہی درخت میں دونوں قسم کے پھول نہیں ہوتے) دوسری بات یہ کہ پپیتیہ کے پھلوں سے جو بیج نکلتے ہیں ان میں بڑی تعداد نر بیجوں کی ہوتی ہے ۔ اگرچہ خود رو طور پر پپیتیہ نہیں کر سکتا ۔ جزیرہ ہوائی میں اس کی کاشت دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہوتی ہے۔

پپیستہ کی تقریباً دو درجن قسمیں ہیں ۔ افزائش نسل زیادہ تر تخم کے ذریعہ ہوتی ہے۔ پھل گول اور لمبا ہوتا ہے ۔ عام طور پر ایک پونڈ سے دس پونڈ تک کے پھل ہوتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page