شیخ حسن البناء اور فلسطین
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۲۲
"میں سوچ تو رہا ہوں مگر ایک شیخ نے مشورہ دیا ہے کہ میں عجلت میں کوئی فیصلہ نہ کروں۔ " لیم سن نے بڑی صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے کہا۔ اس نے منیلا میں امریکی قونصل مسٹر رسل ویب کے نام تحریر کیا۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ صرف ولیم سن کا خط موثر ثابت ہوا۔ بہرحال مسٹر ویب نے آگے چل کر منیلا یہ ایک معقول مشورہ ہے ۔ کرنل نے کہا ، تم عیسائی گھرانے میں پیدا ہوئے اور پرورش پائی ، تمھارے باپ کو پتہ چلا ، تو اُسے کتنا صدمہ ہوگا ۔ تمھیں مذہب سے اگر مس ہے، تو کسی پادری کے پاس جاؤ ۔ یہ عجیب و غریب خیالات دماغ سے نکال دو۔ “ اُس نے اسلام کا گہرا مطالعہ کیا اور اس کی تعلیمات میں روح و قلب کے اطمینان کا سامان موجود پایا ۔ کرنل کی نصیحت اس کے نزدیک ایک ایسے بزرگ کی نصیحت تھی جسے نوجوان نسل کے مسائل سے زیادہ صرف اپنے نقطہ نظر سے سروکار ہوتا ہے۔ پولیس میں ولیمسن نے اپنا کیریئر بنالیا صومالیہ کی مہم اور اس کے بعد تین جرمن جاسوسوں کے گرفتار کرانے میں اس نے اپنی ذہانت اور عمدہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ اس کے افسروں کی نگاہیں اس پر پڑنے لگیں ۔ وہ ان تمام باتوں سے بے نیاز ہو کر سال بھر تک اسلامی کتب کا مطالعہ کرتا رہا۔ یہاں تک کہ تمام شکوک و شبہات دُور ہو گئے۔ اس نے فیصلہ کر لیا کہ خواہ کچھ ہو وہ اب اسلام ضرور قبول کرلے گا۔ اس فیصلے کے بعد اُس نے نو مسلموں کے سے جوش و جذبے کے ساتھ دوسروں کو بھی اس روحانی فیض میں حصہ دار بننے کی دعوت دی۔ اس نے برسٹل میں اپنے والد کو ایک طویل خط لکھا۔ ایک اور خط اس نے کیلیفورنیا میں اپنی خالہ کو بھیجا۔ ان دونوں کو جب یہ خطوط ملے تو انھیں سخت صدمہ پہنچا۔ ایک تیسرا خط چھوڑ دیا اور مسلمان ہو گئے۔ حج بیت اللہ کی سعادت بھی حاصل کی اور پھر امریکہ جاکر اسلام کی دعوت و تبلیغ میں مصروف ہو گئے۔ انھوں نے اسلام پر کئی کتابیں بھی لکھیں۔
ولیم سن چھٹی لے کر لہج کے سلطان فاضل ابن علی کے پاس چلا گیا۔ وہاں کئی دن مہمان رہا۔ مقررہ دن ایک شاندار تقریب منعقد ہوئی جس میں اس نے لہج کے قاضی کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ سلطان نے اس کا اسلامی نام عبد اللہ فاضل رکھا اور اسے اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا۔ اس نے اپنے اخلاص کا ثبوت دینے کے لئے ختنہ بھی کروایا۔
اب اس کی نظر میں پولیس کی نوکری کی کوئی اہمیت نہ تھی، حج کا موسم قریب تھا اور لہج سے ایک قافلہ جانے والا تھا۔ عبد اللہ فاضل کے دل میں مقدس شہروں کی زیارت کا شوق تیز تر ہو گیا، لیکن اس کا روپیہ پیسہ اور کپڑے عدن میں تھے، بڑے تذبذب کے بعد وہ عدن چلا آیا۔
عدن کی فضا افسردہ سی تھی، اس کے ساتھی اور افسر بڑی رکھائی سے پیش آئے۔ اس کی ایک ایک سرگرمی اور ارادے سے برطانوی خفیہ پولیس پوری طرح واقف تھی۔ عدن کے فوجی گورنر جنرل ہوگ کرنل اسٹیسی اور اعلیٰ پولیس افسر سب پیچ و تاب کھا رہے تھے۔ عبد اللہ فاضل کو نہ صرف حج پر جانے سے روک دیا گیا، بلکہ لہج کے سلطان کو بھی دھمکی دی گئی کہ اگر
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues