شیخ حسن البناء اور فلسطین
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۲۳
نوجوان قافلہ حجاج میں شامل ہوا، تو اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔ ولیمسن نے درخواست دی کہ اُسے فوری طور پر ملازمت سے سبکدوش کر دیا جائے مگر اس کی درخواست رد کر دی گئی، جواب ملاکہ تم ہندوستان جاکر ہی سبکدوش ہو سکتے ہو۔ عبداللہ ولیمسن ہندوستان جانے پر مجبور ہو گیا۔ سلطان بیج کو پتہ چلا تو اس نے ہدایات جاری کر دیں کہ انگلستان، امریکہ یا آسٹریلیا کے سوا اسے کسی حالت میں بھی سفر کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ اس نے عرب میں برطانوی خفیہ پولیس کے لئے اپنی خدمات پیش کیں مگر اس پیش کش کا کوئی جواب نہ ملا۔ ہر طرف سے مایوس ہو کر اس نے دوسرے ذرائع سوچنے شروع کر دئے عبداللہ [...]
ہدیہ میں سو روپے بھیج دے۔
عبداللہ ولیم سن ہندوستان جارہا تھا۔ مگر اس کا دل عرب میں تھا۔ جہاز کا فاصلہ عدن سے جتنا بڑھتا جاتا، عرب واپس پہنچنے کی آتش شوق اتنی ہی بھڑکتی جاتی تھی۔
ہندوستان پہنچ کر عبداللہ فاضل ویمن ایک عجیب پریشانی میں گھر گیا۔ اسے ملازمت سے تو فوراً سبکدوش کر دیا گیا، لیکن بمبئی کے برطانوی حکام بدستور اس کے معاملات میں دلچسپی لیتے رہے۔ وہ اسے واپس انگلستان بھیجنا چاہتے تھے، مگر قانوناً ایسا نہیں کر سکتے تھے، چنانچہ انھوں نے طرح طرح کے ہتھکنڈوں سے کام لینے کی کوشش کی۔
پہلے اُسے انگلستان مفت لے جانے کی پیش کش ہوئی، پھر کہا گیا کہ یہاں کی آب وہوا تمھارے مزاج کے موافق نہیں تم آسٹریلیا یا امریکہ چلے جاؤ، تمھارے سفر کا انتظام کر دیا جائے گا، مگر ولیمسن نے صاف انکار کر دیا۔ جب اس نے عرب جانے والے ویمن صرف عرب جانے والے جہاز پر سوار نہیں ہوتا تھا۔ اس کی اور کسی بات پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ اس نے بندرگاہ پر کلر کی کر لی اور نہایت مطمئن زندگی بسر کرنے لگا۔
بظاہر یہی نظر آتا تھا کہ وہ بمبئی ہی میں مستقل سکونت اختیار کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔ حکومت کو اس کی قیامگاہ کا تو علم تھا، مگر شہر میں اس کے گھومنے پھرنے پر نہ تو کوئی پابندی تھی اور نہ اس کی نگرانی کی جاتی تھی۔ ان دنوں موصل، بغداد، بصرہ اور کویت سے گھوڑوں کے تاجر بمبئی آتے جاتے رہتے تھے۔ اس نے ان سےرابطہ پیدا کر لیا۔ ان میں ایک دو تھوڑی بہت انگریزی بول لیتے تھے۔ اسے بھی ٹوٹی پھوٹی عربی آگئی تھی۔ اس نے انھیں اپنا سارا قصہ کہہ سنایا، اور مشورہ طلب کیا۔
بات چیت سے پتہ چلا کہ برٹش انڈیا کمپنی نے اپنے جہازوں میں گھوڑوں کے تاجروں کو خصوصی مراعات دے رکھی ہیں۔ عراق عرب سے جہاز میں سیٹ مخصوص کرانا چاہی تو جواب ملا ”کوئی جگہ نہیں“۔ اس نے مختلف جہازوں میں ملاح، فائر مین بلکہ خلاصی تک کے لئے درخواستیں دیں مگر جہاز کے کپتان لائے جانے والے ہر تین گھوڑوں پر کمپنی " تاجر کو آمد و رفت کا ایک فرسٹ کلاس ٹکٹ مفت دیتی ہے۔ ہر دو گھوڑوں کے ساتھ ایک سائیس کو کیرج لو لوئی ضرورت نہ تھی ، جہاز کے مالکوں لو حکومت کے میں مفت سفر کرنے کی اجازت ہے۔ الٹرایسا ہی با
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues