Al-Risala · March 1977 · page 24

”لیکن کیسے؟“

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۲۴

کہ کسی عرب تاجر کو ہندوستان میں کچھ عرصے رہنا ہواتا وہ اپنا آدھا واپسی ٹکٹ کسی کے ہاتھ بیچ دیتا تھا۔ عبداللہ نے سوچا جہاز ران کمپنیوں کو جل دیا جاسکتا ہے ۔ اس نے بصرے کے ایک عرب سائیں سے تیس روپے میں بصرے کا ٹکٹ خریدلیا۔ ٹکٹ عبداللہ علی کے نام کا تھا۔ چونکہ ان دنوں پاسپورٹ وغیرہ کا سلسلہ نہ تھا، اس لئے عبداللہ فاضل کسی خاص زحمت کے بغیر سفر کر سکتا تھا۔ اسے جہاز پر سوار " تو پھر تمھارا سارا منصوبہ تلپٹ ہوگیا ہے ۔ بُو شہر میں پولیٹیکل افسر نے مجھے بلایا تھا۔ اُسے ہندوستان سے تمھارے متعلق اطلاع ملی ہے ، مجھے حکم ہوا ہے کہ تمھیں بھرے میں اترنے نہ دوں ۔ "

ولیم سن اندر ہی اندر کھولنے لگا : " میں نے کوئی جرم نہیں کیا ، مجھے روکنے والا کون ہوتا ہے؟ کسی کو میری آزادی پر قدغن لگانے کا کوئی حق نہیں۔ " " میں کچھ نہیں جانتا ، میرا کام تمھیں ممبئی واپس ہوتے وقت کچھ بھی دقت پیش نہ آئی۔ اس نے عربی لباس پہن رکھا تھا جو اس نے عدن میں خریدا تھا۔ دھوپ میں سنولائے ہوئے چہرے اور ہلکی سی ٹیڑھی ناک سے وہ ہو بہو عرب معلوم ہوتا تھا۔ بندرگاہ کے حکام، پولیس اور جہاز کے افسروں کسی کو گمان تک نہ ہو کہ کوئی سفید فام ”بنکورا“ پر سوار ہوا ہے۔ بنکورا بصرے کی طرف روانہ ہو گیا۔ عبداللہ فاضل نے کھلے سمندر میں پہنچ کر اطمینان کا سانس لیا، لیکن برطانوی راج کے عفریت نے دور دور تک اپنے جنگل گاڑ رکھے تھے۔

”بنکورا“ خلیج فارس کی بندرگاہ بوشہر سے دور گہرے سمندر میں لنگر ڈالے کھڑا تھا۔ جہاز کا کپتان لانچ میں بیٹھ کر کمپنی کے دفتر گیا، خاصی دیر کے بعد واپس آیا اور جہاز کی تلاشی شروع ہو گئی۔ پتہ چلا کہ بمبئی سے ایک ”گورا عرب“ سوار ہوا ہے، اس کی تلاشی ہو رہی ہے۔ آخر گورا عرب پکڑا گیا۔ جہاز کے کپتان نے چھنتی ہوئی نظروں سے جائزہ لیا:

”کیا تمھارا نام ولیم سن ہے؟ “ اس نے پوچھا۔ ”ہاں!“ لے جاکر چھوڑ دینے کے بعد ختم ہو جاتا ہے“۔ عبد اللہ ولیمسن نے دوران سفر میں بہت سے عرب تاجروں سے واقفیت پیدا کرلی تھی۔ انہی میں موتیوں کے ایک تاجر یوسف ابراہیم تھے۔ ان کا شمار کویت کے مشہور شیوخ میں ہوتا تھا۔ ولیمسن نے ان سے اس نئی افتاد کا ذکر کیا۔ وہ دیر تک خاموش رہے، پھر کہنے لگے:

”کیا یہ ضروری ہے کہ تم بصرے ہی جاؤ، ہمارے ساتھ کویت کیوں نہیں چلتے؟ تم ہمارے دینی بھائی ہو، ہمارے ساتھ آؤ اور ہمارے مہمان بن کر رہو، کوئی تمھیں زک نہ پہنچا سکے گا۔

”لیکن کیسے؟“

یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔ کویت میں جہاز ساحل سے دور کھڑا ہوتا ہے۔ ہمیں لینے کے لئے ہماری اپنی کشتی آئے گی۔ تم بھیس بدل کر آسانی ساحل پر پہنچ سکتے ہو۔ “ آخر کویت آگیا۔ عبد اللہ ولیمسن نے اپنا عربی لباس اتار کر ایک کویتی کا لباس پہن لیا۔ عبا کالے رنگ کی تھی اور عقال بھی مختلف تھا۔ اس کے عرب دوستوں

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page