”لیکن کیسے؟“
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۲۵
نے اس کا صندوق اور دوسرا سامان اُٹھا لیا۔ اگرچہ جہاز کے دو تین افسر کھڑے مسافروں کو کشتیوں میں سوار ہوتا دیکھ رہے تھے مگر عبد اللہ ولیم سن پر کسی کو شبہ نہ ہوا۔ شیخ یوسف ابراہیم کی کشتی ساحل کی طرف روانہ ہو گئی اور بنکو را سامان اتارنے کے بعد اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گیا۔
کویت میں نوجوان عبد اللہ نے اپنی عرب زندگی کا آغاز کیا۔ سات برس کی جہاں گردی کے بعد اُسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ مشفق اور مہربان مادرِ وطن کی آغوش میں آگیا ہے۔ اب وہ مطمئن تھا ۔ برطانوی راج کی دسترس سے دُور۔ اب وہ عرب رسم و رواج، عربی زبان اور اسلامی تعلیمات پوری آزادی سے سیکھ سکتا تھا۔ چند روز ہی میں وہ وضع قطع ڈھنگ جو شط العرب کے دہانے پر واقع ہے۔ عبداللہ لیم سن اس جہاز میں سوار ہو گیا۔ کویت کے دوستوں نے اسے بڑی افسردہ دلی اور نیک تمناؤں کے ساتھ رخصت کیا۔
بصرے میں بسّام کے گھرانے سے ہر شخص واقف تھا۔ انھوں نے عبداللہ لیم سن کو بصد شوق و مسرّت "اہلاً و سہلاً" کہا اور مہمان خانے میں جگہ دی۔ شام کے وقت وہ اپنے میزبانوں کے ہاں بیٹھا تھا اور قہوے کا دور چل رہا تھا۔ دیر تک اس کے مستقبل پر غور ہوتا رہا۔ آخر خاندان کے بڑے بوڑھے نے کہا: "عبداللہ! میرا گھر حاضر ہے۔ ہم تمھیں اپنے گھرانے کا ایک فرد سمجھیں گے۔ علم دین کی تحصیل ایک نیک مقصد ہے۔ ہمارے ہاں سال، دو سال جب اور شب و روز کے مشاغل کے اعتبار سے ایک پیدائشی عرب بن گیا۔ چند ہفتوں کے بعد اس نے شیخ یوسف سے بصرہ جانے کی اجازت چاہی۔ شیخ یوسف اس کے تک چاہو ہو اور پورے اطمینانِ قلب کے ساتھ دین کی تعلیم حاصل کرو۔ “ بصرہ ان دنوں ایک چھوٹا سا عرب قصبہ تھا عراق اصرار پر رضا مند ہوگئے۔ بصرے کے بنام گھرانے کے پر ترک حکمرانی کرتے تھے۔ مغربی اثرات کے بہت کم نقوش ساتھ شیخ کے گہرے دوستانہ تعلقات تھے۔ اس لیے ان کے نام ایک تعارفی خط لکھ دیا۔ انہی دنوں شیخ کا دیکھنے میں آتے تھے۔ قصبے کی سڑکیں کچی تھیں اور بھر سے سے باہر جانے والے راستے محض پگڈنڈیاں۔ بھرے کی ایک چھوٹا جہاز سامان تجارت لے کر فاؤجار ہا تھا زندگی ولیمسن کے لئے نہایت خوش آئند تھی۔ بسامیوں موجودہ زمانے میں غیر مسلموں تک اسلام کی آواز پہنچانے کے لئے سب سے عمدہ کتابیں وہ ہیں جو غیر مسلم ہمد ردان اسلام یا نومسلموں نے لکھی ہیں۔ ان کتابوں میں جو سادگی اور تاثیر ہوتی ہے وہ مسلمانوں کی لکھی ہوئی کتابوں میں نہیں ملتی۔ انھیں میں سے ایک کتاب کا واقعاتی خلاصہ یہاں پیش کیا گیا ہے۔ اس قسم کی کتابیں اور مضامین سیکڑوں کی تعداد میں چھپ چکے ہیں۔ ضرورت ہے کہ ان کو جمع کیا جائے اور ان کی اصل اور ترجمے اہتمام کے ساتھ چھاپ کر شائع کئے جائیں۔ الرساء مارچ ۱۹۷۷ء
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues