Al-Risala · March 1977 · page 26

”لیکن کیسے؟“

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۲۶

کا مہمان ہونے کی وجہ سے اس کی شناسائی بصرے کے تمام اہم خاندانوں سے ہو گئی۔ وہ کبھی کبھار صحرا میں بدوؤں کے خیموں پر جاتا اور کئی کئی دن اُن کے ساتھ رہتا۔ اب وہ عربی روانی سے بولنے لگا تھا اور بدوؤں کے عادات و خصائل اور رسوم و رواج سے خاصا واقف ہو چکا تھا۔ اونٹ کی سواری بھی اس نے سیکھ لی تھی۔ رفتہ رفتہ یہ بات عام ہو گئی کہ بصرے میں عربوں کے ساتھ ایک گورا "سکونت پذیر ہے۔

ایک دن سہ پہر کے وقت برطانوی قونصل خانے سے ایک ترجمان آیا، خط میں برطانوی قونصل نے لکھا تھا: "میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ برطانوی رعایا ہونے کی حیثیت سے برطانوی قونصل خانے میں آکر اپنی آمد کی اطلاع دو۔ "

عبداللہ ولیم سن نے اس کا جواب ہی نہ دیا۔ ترجمان سے زبانی صرف اتنا کہا: "اپنے آقا سے کہہ دو، میں نہیں آؤں گا۔ برطانوی قونصل خانے میں قدم رکھنے کے معنی برطانوی علاقہ میں داخل ہونے کے تھے ۔

عبداللہ ولیم سن کا خیال تھا کہ معاملہ رفع دفع ہو چکا ہے اور وہ عربوں کے درمیان بالکل محفوظ ہے لیکن برطانوی قونصل کے پاس ایک حربہ اور تھا۔ اگلے روز بصرہ کے ترک والی (گورنر) حمدی پاشا سے ملا۔ گورنر برطانیہ کے ساتھ جھگڑا مول لینے سے ہمیشہ احتراز کرتا تھا۔ ترک گورنر نے حکم دیا کہ خیریت چاہتے ہو تو اس گورے کو برطانوی قونصل کے حوالے کر دو۔ اس پر عرب بھی گرم ہو گئے۔ انھوں نے اپنا مہمان گورنر یا برطانوی قو نصل کے حوالے کرنے سے صاف انکار کر دیا: "وہ ہمارا مہمان ہے، ہم الرسائل مارچ ۱۹۷۷ء سچائی کی یافت اس کے لئے زندگی کے تمام سوالات کا جواب بن گئی ۔

اس کی حفاظت کریں گے، خواہ ہمیں قربان ہونا پڑے۔ یہ اُن کا دو ٹوک جواب تھا۔ عبداللہ ولیم سن اپنے محسن میزبانوں کو کسی مصیبت میں ڈالنا نہیں چاہتا تھا۔ اس نے بصرے سے چلے جانے کا فیصلہ کر لیا۔ بُسامیوں نے اسے بڑے تاسف اور ملال کے ساتھ رخصت کیا۔ عبداللہ ایک عرب دوست کے پاس زبیر چلا گیا۔ وہاں سے اس نے شیخ یوسف ابراہیم کو ایک خط لکھا۔ شیخ نے اسے اپنے پاس کویت بُلا لیا۔ عبداللہ بصرہ، زبیر اور کویت میں کوئی دو سال رہا۔ اس عرصے میں اس نے اپنا اکثر وقت عربی اور اسلامی تعلیمات سیکھنے میں گزارا۔ شیخ سردی اور بہار کا موسم صحرا میں گزارتا تھا۔ عبداللہ ولیم سن بھی اس کے ساتھ رہتا اور سیر و شکار میں حصہ لیتا۔ اس دوران میں صحرائی بدوؤں سے ملنے جلنے کے مواقع میسر آئے۔ ہر نیا دن اپنے دامن میں نئی دلچسپیوں اور معلومات کا سامان لے کر آتا۔ یہیں اس نے گھوڑے اور اونٹ پالنا اور شکروں سے شکار کرنا سیکھا۔ اب وہ ایک پختہ کار بدو بن چکا تھا۔

پو پھٹ رہی تھی۔ دور سے مؤذن کی آواز سنائی دی۔ اللہ اکبر، اللہ اکبر، زائرین نیند سے بیدار ہو گئے۔ عبداللہ ولیم سن نے حسب معمول نماز با جماعت ادا کی، اب صبح کی روشنی پھیلنے لگی۔ دور مسجد نبوی کے بلند مینار سے

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page