Al-Risala · March 1977 · page 27

”لیکن کیسے؟“

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۲۷

نظر آرہے تھے، مدینۃ النبی اب چند فرلانگ دور رہ گیا تھا۔ رات جب قافلے نے پڑاؤ ڈالا تھا، عبد الکریم من پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوگئی تھی۔ وہ قافلے کے ساتھ آٹھ سو میل کا سفر طے کر کے آیا تھا۔ دوسروں کی طرح وہ بھی اس طویل سفر سے جس میں کئی مرتبہ انھیں ٹیرے بدوؤں سے جنگ کرنی پڑی تھی، سخت تھک چکا تھا مگر اس کا جی چاہتا تھا کہ قافلہ اپنا سفر جاری رکھے اور وہ اس مقدس شہر میں جلد سے جلد پہنچ جائے جو اسلام کا مرکز ہے اور جہاں اللہ کے آخری نبی استراحت فرما ہیں۔ وہ نبی آخر جن کی تعلیمات نے اس کے دل اور دماغ کی دنیا بدل ڈالی تھی، ان سے اسے رُوحانی اطمینان اور کردار کی پاکیزگی اور بلندی ملی تھی مسلمان ہونے کے فورا بعد وہ اس عظیم و مقدس اور تاریخ ساز شہر کی زیارت کرنا چاہتا تھا لیکن اسے کئی بار زبردستی روک دیا گیا تھا، پھر اس کے رستے میں نئی نئی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں مگر وہ ان سب رکاوٹوں کو دور کرنے کے بعد اب اپنے مقدس شہر کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ اس کو پورا یقین تھا کہ وہ صراط مستقیم پر گامزن ہے اور اب اس کی دنیا بھی سنور چکی ہے اور عاقبت بھی ۔ وہ جب مدینۃ النبی میں داخل ہوا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔ آج اس کے دل کی سب سے بڑی تمنا پوری ہو چکی تھی ۔ (ماخوذ)

حروف پر نقطے کب لگائے گئے کہا جاتا ہے کہ ایک بڑھیا فرزدق شاعر کے پاس آئی اور کہا: "میں تمھارے باپ کی قبر کی پناہ مانگتی ہوں"۔ فرزدق نے پوچھا ، تم کیا چاہتی ہو۔ اس نے بتایا کہ تمیم بن زید میرے بیٹے کو پکڑ لے گئے ہیں ، اور اس کے سوا میری کوئی اولاد نہیں جو میرے لئے کمائی کر سکے۔ اس نے پوچھا تمھارے بیٹے کا نام کیا ہے ، بڑھیا نے کہا "خنيس"۔ اس کے بعد فرزدق نے چند اشعار لکھ کر تمیم بن زید کے پاس بھیج دئے۔ آخری شعر یہ تھا:

وہب لی خنيسا واحتسب فيه منة لعبرة ام لا يسوغ شرابها اور خنیس کو مجھے دے دو اور اس کے معاملہ میں احسان کرکے اس کی ماں کے آنسو بند کرو جس کے لئے کھانا پینا بے مزہ ہو چکا ہے۔

اس زمانہ کے رواج کے مطابق الفاظ پر نقطے نہیں تھے۔ یتیم بن زید کو اشعار پہنچے تو اس نے بڑھیا کے بیٹے کو واپس کرنا چاہا مگر بے نقطہ "حسن" کے نام میں اس کو شک ہو گیا۔ اس نے اپنے قبیلہ کے تمام آدمیوں کے ناموں کو دیکھا تو ان میں خنیس، خنیش، جیش وغیرہ قسم کے چھو ملتے جلتے نام تھے۔ اس نے ان تمام لوگوں کو فرزدق کے پاس بھیج دیا۔

اس طرح کے واقعات نے لوگوں کو متوجہ کیا کہ وہ حروف کی شناخت کے لئے ان پر نقطے لگائیں اس سلسلہ میں ابتدائی کام ابو الاسود دولی نے کیا۔ اس کے بعد حجاج کے حکم پر ابو الاسود کے دو شاگردوں نصر بن عاصم اور یحییٰ بن یعمر نے ان کو تکمیل تک پہنچایا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page