Al-Risala · March 1977 · page 28

بائبل کی زبان سے

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۲۸

بائبل کی زبان سے

بائبل کی ۲۳ ویں کتاب یسعیاہ بن آموس کے کے رویا اور نصیحتوں پر مشتمل ہے۔ انھوں نے یہودیوں کو خدا کی گرفت سے ڈرایا تھا۔ ” جنوب کے جانوروں کی بابت بار نبوت “ کے تحت جو کچھ درج ہے، اس کا ایک حصہ یہ ہے: ” یہ باغی لوگ اور جھوٹے فرزند ہیں جو خدا وند کی شریعت کو سننے سے انکار کرتے ہیں۔ جو غیب بینوں سے کہتے ہیں غیب بینی نہ کرو اور نبیوں سے کہ ہم پر سچی نبوتیں ظاہر نہ کرو۔ ہم کو خوش گوار باتیں سناؤ اور ہم سے جھوٹی نبوت کرو۔ راہ سے باہر جاؤ۔ راستہ سے برگشتہ ہو اور اسرائیل کے قدوس کو ہمارے درمیان سے موقوف کرو۔ “ (۱ - ۶ : ۳۰)

اس کی ایک صورت خوشامد ہے جو چھوٹے لوگ بڑے لوگوں کو خوش کرنے کے لئے کیا کرتے ہیں۔ شاہ اسرائیل نے ارادہ کیا کہ وہ ناحق ارام کے اوپر حملہ کرے اور ان کے ہے، جس کے ذریعہ ہم خداوند سے پوچھ سکتے ہیں، لیکن مجھے اس سے نفرت ہے۔ کیونکہ وہ میرے حق میں نیکی کی نہیں بلکہ بدی کی پیشین گوئی کرتا ہے۔ یہوسفط کے اصرار پر شاہ اسرائیل نے میکایاہ کو بلوایا۔ اس قاصد نے جو میکایاہ کو بلانے گیا تھا، اس سے کہا: دیکھ، سب نبی ایک زبان ہو کر بادشاہ کو خوش خبری دے رہے ہیں۔ سو، ذرا تیری بات بھی ان کی بات کی طرح ہو اور تو خوش خبری ہی دینا۔ میکایاہ نے کہا، خداوند کی حیات کی قسم، جو کچھ خداوند مجھ سے فرمائے، میں وہی کہوں گا۔

میکایاہ جب شاہ اسرائیل کے پاس آیا اور اس نے پوچھا کہ ہم رامات جلعاد سے لڑنے جائیں یا رہنے دیں۔ میکایاہ نے نہ لڑنے کا مشورہ دیا اور لڑائی کی صورت میں شاہ اسرائیل کی شکست کی پیشین گوئی کی۔ اس نے مزید کہا کہ جن "نبیوں" نے تجھ کو فتح کی خوش خبری دی ہے، وہ جھوٹے ہیں ان کے منہ میں جھوٹ بولنے والی روح داخل ہو گئی ہے۔ " تب شاہ اسرائیل نے یہوسفط سے کہا: کیا میں نے تجھ کو بتایا نہیں تھا کہ یہ میرے حق میں نیکی کی نہیں بلکہ بدی کی پیشین گوئی کرے گا۔

باغ اور زمینیں ان سے چھین لے۔ اس وقت اس کے دربار میں چار سو کی تعداد میں"جھوٹے نبی" موجود تھے۔ شاہ اسرائیل نے ان سے پوچھا: "میں رامات جلعا دسے لڑنے جاؤں یا باز رہوں۔ " سب نے کہا: جا، کیوں کہ خداوند اسے بادشاہ کے قبضہ میں کر دے گا۔

اس وقت یہودیوں کا بادشاہ یہو سفط شاہ اسرائیل کے پاس تھا۔ اس نے یہوسفط سے کہا: کیا ان کو چھوڑ کر یہاں خداوند کا کوئی نبی نہیں ہے تاکہ ہم اس سے پوچھیں ۔ شاہ اسرائیل نے یہوسفط سے کہا کہ ایک شخص املہ کا بیٹا میکایا ہ شاہ اسرائیل کے دربار میں میکایا ہ کے گال پر مارا گیا۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ " اس شخص کو قید خانہ میں ڈال دو۔ اور اس کو مصیبت کی روٹی کھلانا اور مصیبت کا پانی پلانا جب تک میں سلامت نہ آؤں "۔ اس کے بعد شاہ اسرائیل نے شاہ یہوداہ یہوسفط کے ساتھ مل کر رات جلعاد پر چڑھائی کی۔ مگر ان کو بدترین شکست ہوئی۔ شاہ اسرائیل زخمی ہو کر اپنے رتھ میں گر پڑا۔ خون اس کے زخم سے بہہ کر رتھ کے پاندان میں بھر گیا۔ بادشاہ مر گیا، کتوں نے اس کے خون کو چاٹا۔ (ا - سلاطین ۲۲: ۱- ۳۸)

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page