کے ساتھ تعاون کرنا
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۲۹
جو مشینی تمدن میں اسے نہیں ملیں۔ اگرچہ اسے نہیں معلوم کہ یہ مستقبل دوسری دنیا میں سامنے آنے والا ہے نہ کہ موجودہ دنیا میں ۔ امریکی عالم حیاتیات ڈاکٹر جونس سالک (JONAS SALK) ایک نہایت کامیاب ڈاکٹر تھے۔ ان کی پریکٹس خوب چل رہی تھی۔ اسی کے ساتھ وہ طبی تجربات بھی جاری کئے ہوئے تھے۔ ان کے سامنے یہ بات آئی کہ اگر یکسو ہو کر کوشش کی جائے تو پولیو کا علاج دریافت کیا جاسکتا ہے۔
انھوں نے اپنی کامیاب پریکٹس چھوڑ کر تحقیق و تجربہ شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ وہ پولیو ویکسین کے موجد بن گئے۔ ابتدائی قربانی ان کے لئے زیادہ بڑی کامیابی لے کر آئی ہے۔ اب انھوں نے امریکہ میں "سالک انسٹی ٹیوٹ آف بیالوجی" کے نام سے ایک ادارہ قائم کر لیا ہے۔ ان کا شمار ان ممتاز لوگوں میں ہونے لگا ہے جن polio vaccine, who gets the Nehru Award for the promotion of International understanding کو عالمی مجالس میں اپنی بات کہنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر سالک جنوری ۱۹۷۷ کے دوسرے ہفتہ میں ہندوستان آئے تھے، یہاں ان کو آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کی اعزازی فیلوشپ دی گئی۔ اس کے علاوہ ۱۹۷۵ کا نہرو ایوارڈ (بین اقوامی مفاہمت) بھی دیا گیا ۔ جو ایک بڑا اعزاز ہے۔
انھوں نے اپنے لکچر میں انسانیت کے سفر کی ایک پرامید تصویر پیش کی ۔ انھوں نے کہا ہماری دنیا دور الف (EPOCH A) سے نکل کر دور ب (EPOCH B) میں داخل ہو رہی ہے۔ اب وہ زمانہ آنے والا ہے جب کہ انسان موت ، بیماری اور نفرت سے آزاد ہو گا۔ وہ ایک نئی بہتر دنیا میں زندگی گزارے گا۔
کے ساتھ تعاون کرنا
تعمیر ملت اور دعوتِ اسلام کی مہم میں تعاون کرنا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues