یوگوسلاویہ میں اسلام
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۳۰
یوگوسلاویہ میں اسلام
یوءپ کا وہ ملک جس کو آج یوگوسلاویہ تعداد ۳۰ لاکھ تک پہنچتی ہے۔ انھوں نے فقہ و اصول عقائد کہا جاتا ہے، ۱۹۲۹ء سے پہلے اس علاقہ کا نام بلقان وعظ، بیان و بدیع، نحو و صرف، سیاست و اجتماع، تھا اور وہ ترکی کی سلطنت عثمانی کا ایک حصہ تھا۔ یہاں تاریخ و منطق پر کتابیں لکھیں۔ ان کی ایک کتاب رسل اسلام آٹھویں صدی ہجری میں تاجروں کے ذریعہ الحکم فی نظام العالم، جو اصلاً عربی میں ہے، اس کے پہنچا۔ ایک ترک سیاح اولیا جلبی جس نے گیارہویں ترجمے ترکی، فرانسیسی، جرمن اور انگریزی زبانوں صدی ہجری میں اس علاقہ کا سفر کیا تھا، اپنی کتاب میں شائع ہو چکے ہیں۔ آج بھی یوگوسلاویہ میں مسلمانوں (سیاحت نامہ) میں لکھتا ہے کہ جب وہ بلقان پہنچا تو کی معقول تعداد ہے اور ان کے متعدد رسالے وہاں کے شہر بلغراد میں ۲۱۰ مسجدیں، آٹھ درس گاہیں یوگوسلاوی زبان میں شائع ہوتے ہیں مثلاً نو دار الحدیث اور ۲۷ مدرسے عربی زبان سکھانے کے جلا سینک ماہوار رسالہ لئے قائم تھے۔ یوگوسلاویہ کا ایک شہر جس کا موجودہ نام بریلوزی سالانہ سرایے نو (SARAJEVO) ہے۔ عثمانی سلطنت کے الامل شش ماہی زمانہ میں اس کا نام سرائے بوسنہ تھا۔ صرف اس ڈاکٹر کامل البهى در مراقب الشئون الدينية ایک شہر سے اتنے علماء ءو شعر اء پیدا ہوئے کہ اُن کے تذکرہ باذاعة قاهره، یوگوسلاویہ کے بارہ میں لکھتے ہیں: پر ایک مستقل کتاب لکھی گئی ہے، جس کا نام ہے: ومن اشهرهو لاوء مفتى الهرســك ” الجوهر الاسنى فى تراجم علما و شعرا ر بوسنه“ مصطفی يوسف الموستعارسی (۱۱۱۹ – نفح الطیب کے مصنف نے لکھا ہے کہ فاطمیین ۱۰۲۱ھ) وقد عين استاذ العلوم العربية کے عہد میں یوگوسلاویہ کے بہت سے لوگ خلفاء کی خدمت والدراسات الاسلامية بالقسطنطينية میں رہتے تھے۔ مثال کے طور پر جعفر بن محمد المصحفی الصقالی وقد عشر نا علی سبعة وعشرين مخطوطا جوہر الصقلی جو المعز لدین اللہ فاطمی کے یہاں بڑے عہدہ من مؤلفاته، ولكن اكثر مؤلفاته كانت پر فائز تھا، کہا جاتا ہے کہ اسی نے شہر قاہرہ اور الازہر فی ادب البحث والمناظرة - ولا يزال کی بنیاد رکھی تھی۔ مسعودی نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ ضريحہ بزا ر حتى الآن، ولايزال المستعین باللہ عباسی کی ماں جس کا نام مخارق تھا، ایک العلماء ليو عسلاف يكتبون عنه ويترجمون صقلبی (یوگوسلاوی) خاتون تھی۔ ایک یوگوسلاوی عالم لہ ولا تزال الاساطير الشعبية تروى حسن کافی الانحصاری (۱۰۳۵ - ۹۵۱ھ) کی تالیفات کی عن كراماته، حتى ان الكثيرين يعتقدون
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues