یوگوسلاویہ میں اسلام
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۳۱
ان الطفل الغبي اخذ من ارض ريحة العين يوما بعد صلوة الصبح يصير ذكيا و يزول غباوة الوعي الاسلامی (کویت)، جمادی الآخرة ۱۴۳۸ھ ان میں سب سے مشہور ہر سک کی مفتی مصطفیٰ یوسف، المستشاری (۱۱۹۱-۱۰۶۱ھ) تھے۔ قسطنطنیہ میں عربی اور اسلامی علوم کے استاذ مقرر ہوئے۔ ان کی تالیفات میں ۲۷ مخطوطات علم میں آچکی ہیں۔ ان میں سے اکثر کتابیں بحث و مناظرہ پر ہیں ، ان کی قبر اب تک زیارت گاہ بنی ہوئی ہے اور یو گو سلاویہ کے علما ءاب بھی اُن کے بارہ میں لکھتے ہیں اور اُن کے ترجمہ شائع کرتے ہیں۔ اس علاقہ میں اُن کی کرامت کی بہت سی باتیں مشہور ہیں یہاں تک کہ بہت سے لوگ اعتقاد رکھتے ہیں کہ کند ذہن لڑکا اگر چالیس دن تک نمازِ فجر کے بعد ان کی قبر پر جائے تو وہ ذہین ہو جائے گا۔
خوشنویسوں کے لئے ایک نادر تحفہ دورِ حاضر کے مشہور خوشنویس استاد محمد یوسف بن منشی محمد دین سے کون واقف نہیں ۔ وہ اس دور کے خط نستعلیق کی جدید روش کے امام مانے جاتے ہیں رسالہ بک ڈپو عنقریب ایک ایسی کتاب منظر عام پر لانے والا ہے جس میں اس عظیم فن کار کے نادر و نایاب خطاطی کے شاہکار قطعات کی شکل میں ہدیہ ناظرین ہوں گے ۔ اس کے علاوہ مصر کے مشہور خطاط سید ابراہیم ۔ استاد علی بدوی (دمشق) محمد عزت (ترکی) سید ہاشم (بغداد) سید حسنی (مصر) اور دوسرے مشہور خطاطوں کے بیش بہا کمالات کا مجموعہ ہوگی۔ یہ کتاب ہندوستان میں فن خطاطی کے لئے انشاء اللہ مشعل راہ ثابت ہوگی ۔ اس کتاب میں نستعلیق ، خط ثلث ، خط دیوانی ، کوفی اور خط نسخ کے نادر و نایاب تحریر کے نمونے ہوں گے۔ اس کتاب کو سید احمد آرٹسٹ رام پوری نے ترتیب دیا ہے بڑے سائز پر دو رنگ میں بذریعہ ڈیپ ایچ ۔ کاغذ اعلیٰ کوالٹی ۔ (زیر طبع )
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues