تھیوسوفیکل سوسائٹی : ایک تعارف
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۱۶
بھرے لوگ ” اندرونی طاقت حاصل کرنے کے لئے آتے رہتے ہیں۔ ہندوؤں کے لئے بنارس، مسلمانوں کے لئے مکہ اور یہودیوں کے لئے یروشلم کی جو حیثیت ہے۔ وہی تھیاسوفی کے پیروؤں کے لئے اڈیار کی ہے۔ مسز اینی بسنت نے ہندوستان کی سیاسیات میں شامل ہو کر غیر معمولی شہرت حاصل کی۔ برنارڈ شا نے ان کو دنیا کی سب سے بڑی خاتون مقرر کہا تھا ۔ اب اس کے چھٹے صدر جان بی۔ راس ۔ کوٹس (پیدائش 1904) ہیں۔ یہ ایک انگریز ہیں اور بیک وقت چار عالمی زبانوں میں لکچر دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں : فرانسیسی، اسپینی جرمن اور انگریزی - مسٹر کوٹس نے ایک انٹرویو میں کہا : ہم نے مشرقی دانش اور مغربی اقدار کو ملا کر ایک دنیا بنانے کی کوشش کی ہے۔ ہم روحانیات میں ایک اقوام متحدہ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ سوسائٹی کے چھٹے صدر مسٹر کوٹس نے کہا: ” تھیاسوفیکل فیکل سوسائٹی کی تعلیم اور کتابوں نیز دوسرے عوامل کے ذریعہ مغرب میں علوم خفیہ سے دل چسپی بہت بڑھی ہے ، مگر ایک خطرہ باقی ہے۔ اپنی اندرونی قوتوں کی تلاش میں انسان اب بھی روحانیت کے بجائے نفسیات پر زیادہ زور دے رہا ہے۔ ہمیں انسانیت کو اس سے بچانا ہے اور لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ علوم خفیہ کو حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ خود غرضانہ زندگی کو ترک کر دیا جائے ۔ “ تھیاسوفیکل سوسائٹی کے مقصد کو مندرجہ ذیل شکل میں بیان کیا جاتا ہے۔
۱۔ نسل، عقیدہ ، جنس، فرقہ یا رنگ کے امتیاز کے بغیر عالمی انسانی برادری قائم کرنا۔
جے۔ مذہب، فلسفہ اور سائنس کے تقابلی مطالعہ کی حوصلہ افزائی کرنا۔
۳۔ انسان کے اندر فطرت کے مخفی قوانین اور طاقتوں کا پتہ لگانا۔
تھیاسوفیکل سوسائٹی کی بانی بلا واٹسکی کے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خارق عادت واقعات ظہور میں لانے پر قادر تھیں۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ ۱۸۸۰ء میں ایک بار وہ شملہ میں مقیم تھیں۔ وہ کچھ لوگوں کے ساتھ جنگل میں پکنک منانے کے لئے گئیں۔ وہاں چائے تیار کی گئی تو اتفاق سے ایک نیا مہمان آگیا جس کے لئے پیالی اور پلیٹ موجود نہ تھیں۔ انھوں نے اپنی مخفی قوتوں کے ذریعہ ہوا سے ایک پیالی اور پلیٹ منگوائی جو ٹھیک اسی سائز اور ڈیزائن کی تھی جس کا ایک سیٹ ان لوگوں کے پاس پہلے سے موجود تھا۔ یہ پیالی اور پلیٹ اب بھی اپنی اصل حالت میں تھیوسوفی کے مرکز ایڈ یار میں موجود ہے۔
اسی طرح اور بھی قصے مشہور ہیں مثلاً وہ مرکز میں لگے ہوئے مختلف گھنٹوں میں سے کسی بھی گھنٹہ کو بغیر خارجی ذریعہ کے محض اپنی مخفی قوت سے بجا سکتی تھیں۔ بلاواٹسکی مہا تماؤں کو اپنا گروہ بتاتی تھیں جو عرصہ ہوا مر چکے تھے۔ مگر بلاواٹسکی بیان کے مطابق ان کی روح ہمالیہ کے اوپر موجود تھی۔ کوئی شخص اس جہاتما کی روح سے تعلق قائم کرنا چاہتا تو وہ بلاواٹسکی کے ذریعے کر سکتا تھا۔ وہ اپنی بات بلاواٹسکی سے کہتا۔ بلاواٹسکی اس بات کو مخفی ذرائع سے مہاتما کی روح کو پہنچاتیں۔ مہاتما کی روح اس کا جواب دیتی۔ یہ جواب ایک کاغذ پر انگریزی زبان میں اچانک چھپ جاتا۔ وغیرہ ۲۔ کرشنا مورتی نے اپنی نوجوانی کی عمر میں ۱۹۲۵ء میں تھیوسوفیکل سوسائٹی میں شرکت کی تھی۔ وہ ایک نہایت غریب خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ بسراینی بسانت نے بچپن ہی میں ان کو ان کے خاندان سے لے لیا اور ان کو اعلیٰ تعلیم
‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues