Al-Risala · January 1977 · page 17

تھیوسوفیکل سوسائٹی : ایک تعارف

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۱۷

تھیوسوفیکل سوسائٹی کے لوگ ہی ہوتے ہیں۔ میڈیم بلاواٹسکی ۱۸۷۹ میں پانی کے جہاز کے ذریعہ پاور سے امریکہ جارہی تھیں۔ ان کے پاس فرسٹ کلاس کا ٹکٹ تھا۔ انھوں نے دیکھا کہ بندرگاہ پر ایک غریب عورت حسرت و افسوس کے عالم میں پڑی ہوئی ہے۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ اس کا شوہر امریکہ میں مزدور ہے۔ اس نے اپنے چھوٹے بچے کے ساتھ تھرڈ کلاس کا ٹکٹ لیا تھا تاکہ امریکہ میں اپنے شوہر کے پاس جاسکے۔ مگر عین وقت پر جہاز کے ذمہ داروں نے بتایا کہ اس کا ٹکٹ جعلی ہے۔ کسی نے اس کو دھوکا دے کر اس سے پیسے وصول کئے اور اس کو جعلی ٹکٹ دے دیا۔ بلاواٹسکی نے فوراً اپنا فرسٹ کلاس ٹکٹ واپس کیا اور تیسرے درجہ کا ڈھائی ٹکٹ لے کر عورت اور اس کے بچے کے ساتھ معمولی کلاس میں سفر کر کے امریکہ پہنچیں دلائی۔ وہ تھیوسوفیکل سوسائٹی کے ایک مشہور فرد بن گئے۔ مگر ۱۹۳۰ میں ان کو سوسائٹی سے اختلاف ہوگیا۔ انھوں نے سوسائٹی چھوڑ دی ۔ ان کا کہنا تھا کہ سچائی کو کسی تنظیم کے ذریعہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ تنظیم آزادانہ تلاش کے بجائے تعصب کا ذہن پیدا کرتی ہے۔ تا ہم آج بھی کرشنا مورتی کے جلسوں میں شرکت کرنے والے سب سے زیادہ کیا ہم اس امتحان کی تیاری کر رہے ہیں قیامت کے دن انسان کے قدم اپنی جگہ سے ہٹ نہ سکیں گے یہاں تک کہ اس سے پانچ باتوں کے بارے میں سوال نہ کرلیا جائے : عمر کن کاموں میں لگائی؟

اپنی جوانی کہاں صرف کی ؟

مال کہاں کہاں سے کمایا ؟

مال کہاں کہاں صرف کیا ؟

جو علم حاصل ہوا اُس پر کہاں تک عمل کیا ؟ راوی : حضرت ابنِ مسعود ـــــــــــــــــ ترمذی

‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues

Printed page