Al-Risala · March 1977 · page 37

علم کلام . ایک جائزہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۳۷

پر خالص علمی اسلوب اور حقیقت نگاری کی زبان میں کتابوں کا ایک سیٹ تیار کر دیں اور اس کو تمام زبانوں میں چھاپ دیں تو ہم علم کلام کئے مقصد کو، کم از کم آج کی دنیا میں، زیادہ بہتر طور پر حاصل کر سکیں گے * نوٹ: دسمبر ۱۹۷۶ء کے آخری ہفتہ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے زیراہتمام ایک سیمینار ہوا۔ عنوان تھا: "فکر اسلامی کی تشکیل جدید کا مسئلہ " اس موقع پر ۲۷ دسمبر کی نشست میں یہ مقالہ پڑھا گیا۔ قدیم علم کلام کی ایک غلطی یہ تھی کہ وہ انسانی عقل کی اس حد بندی کو سمجھ نہ سکا کہ وہ اشیاء پر صرف ظاہری اور اجمالی دلیل قائم کر سکتی ہے، وہ اس کی حقیقی ماہیت کو متعین نہیں کر سکتی۔ مثال کے طور پر قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ سمیع و بصیر ہے۔ صحابہ نے اس کے اجمالی مفہوم کے ساتھ اس پر یقین کر لیا۔ مگر متکلمین نے یہ بحث شروع کر دی کہ خدا کی یہ صفتیں عین ذات ہیں یا خارج از ذات ۔ اسی طرح قرآن میں یداللہ کے الفاظ آئے ہیں۔ اب یہ بحث چھیڑ دی گئی کہ جس ید کو اللہ نے اپنی طرف مضاف کیا ہے اس کا استعمال قرآن میں مجازی معنوں میں ہے یا حقیقی معنوں میں ۔

قرآن و حدیث میں اس قسم کے خوض سے صراحتہ منع کر دیا گیا تھا۔ مگر یہ لوگ عقلی تلاش کے جوش میں اس حد بندی کو بھول گئے اور بالکل غیر ضروری طور پر ایسے مسائل کو علم کلام کا موضوع بنا دیا جن کا علم کلام سے کوئی تعلق نہ تھا۔

وقت کے علوم کے ماہر ہونے کی وجہ سے چونکہ یہ لوگ حکومتوں میں دخیل تھے ، انھوں نے مزید یہ کیا کہ اپنے مخالفین کی دار و گیر شروع کر دی، خلق قرآن کا مسئلہ اسی کی ایک مثال ہے۔ قرآن میں ہے کہ خدا نے نبیوں سے کلام کیا اور ان پر اپنا حکم اتارا ۔ اب متکلمین نے یہ بحث چھیڑ دی کہ خدا کا کلام حادث ہے یا قدیم (یعنی فنا ہو جانے والا ہے یا غیر فنا پذیر) انھوں نے کہا۔ اگر کلام اللہ کو قدیم (غیر فنا پذیر) مان لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ صرف خدا ہی قدیم (غیر فنا پذیر) نہیں ہے بلکہ ایک اور چیز (قرآن) بھی قدیم ہے۔ اس طرح دو قدیم لازم آجا ئیں گے۔ اس طرح کی بحثوں سے انھوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ خدا کا کلام مخلوق اور حادث فناپذیر) ہے۔ وہ پہلے نہیں تھا، پھر خدا اس کو وجود میں لایا اور اپنے نبیوں پر وقتاً فوقتاً نازل کیا ۔ اس بے معنی موشگافی کو انھوں نے کفر و اسلام کا مسئلہ بنا دیا اور اس کو یہ حیثیت دے دی گویا کہ وہ " قابل دست اندازی پولیس" جرم ہے۔ معتزلہ کے برپا کے ہوئے اس فتنے نے سارے عالم اسلام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ تین خلفاء (مامون ، واثق اور معتصم) کے دور تک بے شمار مسلمانوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ یہاں تک کہ خلیفہ متوکل نے اپنے زمانہ میں اس کو ختم کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page