Al-Risala · January 1977 · page 18

تھیوسوفیکل سوسائٹی : ایک تعارف

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۱۸

مدینہ میں تین مذاہب کی کانفرنس پیغمبر اسلام نے مسجد کے اندر غیر مسلموں کو اپنے طریقے کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت دی ۔ آج پیغمبر کے ماننے ووں کا یہ حال ہے کہ انھیں یہ بھی گوارا نہیں کہ دوسرے لوگ مسجد میں آکر خدا کی بتائی ہوئی عبادت کا طریقہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں ۔

ہجرت کے دسویں سال نجران (یمن) کے عیسائیوں کا وفد مدینہ آیا تھا۔ اس وقت مدینہ اسلام کا مرکز بن چکا تھا۔ تاہم یہودی بھی بڑی تعداد میں وہاں موجود تھے۔ ۷۔ ممتاز عیسائیوں کا وفد جب مدینہ پہنچا تو یہودی بھی آکر ان سے ملنے لگے۔ اس طرح عملاً یہ وقت کے تین بڑے مذاہب کی کانفرنس بن گئی ۔ اسی لئے ڈاکٹر ہیکل نے اس کو "مؤتمر الادیان الثلاثہ " کا نام دیا ہے۔ (حياة محمد، صفحہ ۲۳)

ابن اسحاق نے اپنی سیرت میں لکھا ہے:

قدم على رسول الله صلى الله عليه وسلم وفد نصارى من نجران ال ستون راكبا فيهم اربعة عشر رجلا من اشرفهم ، فد خلوا عليه مسجده لا حين صلى العصر و قد حانت صلاتهم فقاموا في مَسْجِدِهِ، ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم دعوهم فصلوا الى المشرق آپ کے پاس نجران کے عیسائیوں کا وفد آیا۔ یہ لوگ ۶۰ سوار تھے۔ ان میں ۱۴ کی تعداد میں ان کے ممتاز افراد تھے۔ یہ لوگ مسجد نبوی میں عصر کے وقت پہنچے (یہ غالباً اتوار کا دن تھا) جب کہ ان کی نماز کا وقت ہو گیا تھا۔ وہ مسجد نبوی میں اپنی نماز ادا کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔ ان کا رخ مسلمانوں کے برعکس) مشرق کی جانب تھا۔ لوگوں نے روکنا چاہا، آپ نے فرمایا، انھیں ان کے حال پر چھوڑ دو اس طرح ایک طرف اسلام نے اپنی رواداری اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کیا۔ دوسری طرف عیسائیوں اور یہودیوں نے یہ کیا کہ وہ آپس میں اور مسلمانوں کے خلاف مناظرانہ انداز سے مذہبی بحثیں کرنے لگے۔ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر ہوا تو یہودیوں نے کہا: ابراہیم یہودی تھے، عیسائیوں نے جواب دیا: تم غلط کہتے ہو، ابراہیم عیسائی تھے۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نرمی کے ساتھ انھیں بتایا: ابراہیم کے بارے میں کیوں اس قسم کی بحثیں کر رہے ہو، تورات اور انجیل تو ان کے بعد اتری ہیں۔ پھر وہ یہودی یا عیسائی کیسے ہو سکتے تھے۔ حقیقت یہ کہ ابراہیم نہ یہودی تھے نہ عیسائی۔ وہ تو سچے موحد اور خدا کے تابعدار تھے۔ (آل عمران۔ ۶۷) اس طرح کی بحثیں مدینہ کی اس مجلس میں جاری رہیں۔ ایک بار یہودیوں نے آپ سے کہا: محمد! کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کی بھی عبادت کرنے لگیں جس طرح عیسائی لوگ عیسیٰ کی کرتے ہیں؟ ۔ نجران کے ایک عیسائی نے

‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues

Printed page