تھیوسوفیکل سوسائٹی : ایک تعارف
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۱۶
یہ سن کر کہا: ہاں ہم بھی آپ سے یہ جنا چاہتے ہیں، اسی لیے بتائیے کہ آپ کا مقصد کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: خدا کی پناہ کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کی طرف بلاؤں، خدا نے مجھے اس کام کے لئے نہیں بھیجا۔
ابن ہشام نے لکھا ہے کہ اہل نجران جب مدینہ آئے اور یہود ان کے پاس جمع ہوئے تو دونوں نے ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنا شروع کیا:
فقال رافع بن حُرَيْملة: ما أنتم على شئ وكفر بعیسی و بالإنجيل ، فقال رجل من اهل نجران ان من النصاری للیهود ما أنتم على شئ وبعد نبوة موسى وكفر بالتوراة رافع بن حریملہ یہو دی نے کہا تم کسی چیز پر نہیں ہو اور عیسیٰ اور انجیل کا انکار کیا۔ نجران کے ایک عیسائی نے کہا تم کسی چیز پر نہیں ہو اور موسیٰ اور تورات کا انکار کیا۔ پیغمبر اسلام نے دیکھا کہ گفتگو اور دلائل امر حق کو واضح کرنے میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں تو آپ نے مباہلہ کا طریقہ اختیار فرمایا۔ قرآن میں حکم آیا کہ "جو لوگ اب بھی آپ سے بحث جاری رکھے ہوئے ہیں، جب کہ علم حق تمھارے پاس پہنچ چکا ہے تو ان سے کہہ دو کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بھی لائیں اور تمھارے بیٹوں کو بھی اور اپنی عورتوں کو بھی اور تمھاری عورتوں کو بھی۔ پھر خدا سے کہیں کہ ہم میں سے جو جھوٹا ہے، اس پر خدا کی لعنت ـــ " (آل عمران - ۶۱) آپ نے وفد کے ارکان سے یہ کہا اور اس کے ساتھ فاطمہ، علی، حسن اور حسین کو لے کر میدان میں پہنچ گئے۔ مگر نجران کے عیسائیوں کو اس معاملہ میں شریک ہونے کی ہمت نہ پڑی۔ انھوں نے اعلان کیا کہ ہم ابھی آپ کے مذہب کو نہیں مانتے، البتہ اسلامی حکومت کی سیاسی ماتحتی قبول کرنے کے لئے تیار ہیں۔ سرولیم میور نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:
"سارے واقعہ میں محمدؐ کے ایمان کی پختگی بالکل نمایاں ہے نیز ان کے اس عقیدہ کی شہادت کہ ان کا تعلق عالم غیب سے جڑا ہوا ہے۔
اور اس لئے حق تمام تر انہیں کے ساتھ ہے"
(لائف آف محمدؐ، صفحہ ۲۶۰ مبارک کام اخبار پرتاپ (۱۲ اکتوبر ۱۹۷۶) نے اپنے ادارتی نوٹ میں محمد علی کلے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا: "محمد علی جیسے کم ہی کھلاڑی ہوتے ہیں۔ باکسنگ نے اسے کروڑ پتی بنا دیا۔ اب اس کے دماغ میں اسلام کی سیوا کا سودا ہے۔ یہ مبارک کام ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اسلام کی سیوا سے بھی یہ اسی طرح منحرف تو نہیں ہوتا جیسے اپنے ریٹائر ہونے کے اعلانوں سے ہوتا ہے۔ " کیسی عجیب بات ہے یہ مسلمان وہ تمام کام کرتے ہیں جن کو دوسرے نامبارک سمجھیں ۔ البتہ وہی ایک کام کرنے کے لئے نہیں اٹھتے جو نہ صرف یہ کہ ان کا سب سے بڑا مذہبی فرض ہے۔ بلکہ اغیار تک جس کو پیشگی مبارک کہنے کے لئے تیار ہیں
‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues