عمل کرتے ہوئے خیر امت کا مظاہرہ کرے
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۶۰
علیہ وسلم نے اس کو جائز قار دیا۔ اس جائز کو حسن اور اس ملک کو طیب ہی کہا جائے گا۔ لیکن بحر العلوم میں حضرت مولانا فتح محمد صاحب رحمہ اللہ نے اس جواز کے متعلق جو تفصیل بیان کی ہے وہ بھی نظر انداز کرنے کے قابل نہیں ہے۔ آپ فرماتے ہیں:۔ جو مال ایسے ملک سے لیا جائے جہاں صلح و عہد ہے اگر قہر و غلبہ لیا ہے تو غیر مملوک و حرام ہے۔ اور اگر ایسی رضاسے لیا جائے جو شرعاً ممنوع ہے۔ جیسے حُرکی بیع یا سودیا قمار وغیرہ تو ملک آجائے گی برعایت صورت رضا اور حلّت نہ آئے گی بوجہ مخالفت شرعی اور اگر وہ رضا شرعاً معتبر یا مسکوت ہو تو ملک بھی آجائے گی اور حلت بھی۔ (عطر ہدایہ ص ۱۸۰)۔ مولاناحافظ الرحمن سیوہاروی پردہ پردہ سے متعلق دو قسم کی آیات پائی جاتی ہیں ایک میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں اور امت کی تمام عورتوں کو یکساں طور پر خطاب کیا ہے اور دوسری بعض آیات میں صرف ازواج مطہرات ہی کو خطاب کیا گیا ہے مگر قرآن کے مفسرین نے ان آیات کے مفہوم کو مقصود کو سامنے رکھ کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان کے احکام بھی تمام عورتوں کے لئے عام ہیں۔ البتہ رسول کی پاک بیویوں کی عظمت اور ان کے احتر ام کی اہمیت کی وجہ سے اُن کو خاص طور پر مخاطب بنایا ہے کہ وہ امت کی مائیں ہیں ان کا تمام امت مسلمہ کے ساتھ بہت نازک رشتہ ہے اس لئے ضروری ہے کہ ادنی سی بے حجابی بھی اس رشتہ میں رخنہ کا باعث نہ بننے پائے۔
دراصل حجاب اور پردہ سے متعلق آیات کا اگر غور سے مطالعہ کیا جائے تو یہ صاف اور واضح نظر آتا ہے کہ ان آیات میں دو جدا جدا فیصلے دیئے گئے ہیں ایک یہ کہ عورت کی زندگی کا خصوصی امتیاز یہ ہے کہ وہ گھر کی زینت ثابت ہو اور وقتی ضرورت یا عام اسلامی مصلحت کو مستثنیٰ کرتے ہوئے عورت کا باہر گھرونا پھر نامعیوب اور ناپسندیدہ ہے۔ چناں چہ ارشاد ہے: " اے پیغمبر کی بیبیو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم کو خدا کا خوف ہے تو (مردوں سے)، ایسے نرم انداز میں گفتگو نہ کیا کرو جس سے ایسے شخص کے دل میں لالچ پیدا ہو جس کے دل میں چور ہے اور جب بات کہو تو بھلی بات کہو اور اپنے گھروں میں ہی قرار پکڑو اور جاہلیت کے زمانہ کی طرح باہر نہ پھرا کرو۔ (احزاب)
اسی طرح دوسری جگہ ارشاد ہے۔
اے مسلمانو! جب تم پیغمبر کی بیبیوں سے کوئی کام کی چیز مانگنے جاؤ تو پردہ کے باہر سے مانگو اس طرز عمل میں تمہارے اور اُن کے دونوں کے دلوں کی خوب ستھرائی اور پاکی ہے:
اور دوسری آیات میں یہ بتلایا گیا ہے کہ اگر ذاتی ضرورت یا اسلامی مصلحت کی خاطربا ہرنکلناناگزیر ہو تو پھر شرم اور حجابات کا تقاضا ر ہے کہ ان باتوں کا خیال رکھو۔ چناں چہ ارشاد ہے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! مسلمان عورتوں سے فرما دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور بجز چہرے اور ہاتھ پیروں، کے کہ جس قدر وہ خود بہ خود کھلے رہتے ہیں اپنی زینت کے کسی مقام کو کسی پر ظاہر نہ ہونے دیں اور ان کو
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues