عمل کرتے ہوئے خیر امت کا مظاہرہ کرے
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۶۱
چاہیے کہ اپنے دو پٹوں سے اپنے گریبانوں کو پوشیدہ رکھیں " (احزاب)
اور اسی طرح یہ ارشاد ہے۔
"اے نبی! اپنی بیبیوں، اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ باہر نکلتے وقت، اپنی چادروں کو اپنے جسم پر نیچے تک لٹکائیں" یعنی چادروں سے اپنے پورے جسم کو لپیٹ لیں کہ غیر کی نظر نہ پڑے۔ اور اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ قرآن عزیز میں ازواج مطہرات ہی کو سختی کے ساتھ پردہ میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے مگر عام عورتوں کے لئے یہ سختی نہیں ہے اور ان کو باہر نکلنے کے آداب اور طریقے تبلا کر روز مرہ کی ضرورت کے لئے نکلنے کی اجازت دی گئی ہے تب بھی یہ تو ماننا پڑتا ہے کہ اسلام کی ترغیبات اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات یہی ہیں کہ عام عورتوں کو بھی سخت ضرورت کے علاوہ باہر نکلنا معیوب ہے اور زمانہ جاہلیت کی طرح زیب و زینت کے ساتھ حسن کی نمائش کرتے ہوئے نکلنے کی تو اسلام میں گنجائش ہی نہیں جیسا کہ آیت حجاب میں واضح ہے۔
ابو داؤد کی صحیح حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ! عورت کی نماز اس کے کمرہ میں صحابہ میں افضل ہے ۔ صلوٰۃ المرأۃ فی بیتھا افضل من صلاتها في حجرتها وصلا تها في مخدعها افضل من صلوتها فی بیتها۔ اور ترمذی کی حدیث میں اس سے بھی زیادہ واضح ارشاد ہے المرأۃ عورۃ فاذا خرجت استشرفها الشیطان, عورت ناموس ہے جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اُس کی تانک جھانک میں لگار ہتا ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ عصمت و عفت کا تحفظ اسلام کے اہم مقاصد میں سے ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اس سلسلہ میں معمولی سی لغزش بھی مرد کے مقابلہ میں عورت کی زندگی کے لئے ناقابل بیان ہلاکت و تباہی کا باعث بن جاتی ہے۔ اس لئے از بس ضروری ہے کہ ایسے تمام وسائل و اسباب کا انسداد کیا جائے جو عام طور پر اس قسم کی لغزش یا گناہ کا سبب بن سکیں اور اس لئے پردہ اور حجاب اس مقصد نیک کے لئے بہتر سے بہتر طریق کار ہے (نور البشر فی سیرۃ خیر البشر) کائنات اپنی لا محدود وسعتوں اور امکانات کے ساتھ ہر شخص کو موقع دے رہی ہے کہ وہ جتنا چاہے آگے بڑھتا چلا جائے۔ مگر کوئی شخص اپنا مقصد غلط طریقے سے حاصل کرنا چاہے تو ساری کائنات اس کا ساتھ دینے سے انکار کر دیتی ہے۔ غلط کام کو یہ دنیا اسی طرح اگل دیتی ہے جیسے ایک نفیس ذوق کا آدمی غلط خوراک کو۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues