Al-Risala · March 1977 · page 62

عمل کرتے ہوئے خیر امت کا مظاہرہ کرے

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۶۲

تعارف و تبصرہ پر لوک کی چھایا میں (ہندی)

از محمد فاروق خاں۔ ایم۔اے صفحات ۲۰۰ قیمت چھ روپے پتہ: مکتبہ اسلامی، اردو بازار دہلی۔ ۶ آخرت کا علم انسان کی سب سے اہم بنیادی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر انسان کبھی بھی تاریکی سے نکل نہیں سکتا۔ اس کا ایک قدم بھی صحیح رخ پر نہیں اٹھ سکتا۔ تصور آخرت سے عدم واقفیت کی صورت میں ناکامی کے سوا انسان کے حصہ میں کوئی دوسری چیز نہیں آسکتی۔ دنیا میں انبیاء علیہم السلام کے بھیجے جانے کی اصل غرض و غایت ہی یہ تھی کہ وہ آنے والے اس دن سے لوگوں کو آگاہ کریں جو یا تو آدمی کے لیے خوشخبری لے کر آئیگا یا پھر وہ اس کے لیے رنج و غم اور تباہی کا دن ثابت ہوگا ۔ دنیوی حیات کو انسان اہمیت دیتا ہے ، اسی کی فکر میں جیتا اور مرتا ہے ، حالانکہ یہ دنیا کی زندگی گزر جانے والی ہے ، جب کہ وہ آنے والا دن اگر کبھی واپس نہ ہوگا ، اس سے بچنے کی کوئی راہ نہیں ! زیر تبصرہ کتاب میں نظریہ آخرت پر مختلف پہلوؤں سے بحث کی گئی ہے ۔ اس کے امکان کے دلائل تفصیل سے پیش کئے گئے ہیں ، یہ دلائل عقلی بھی ہیں ، نفسیاتی اور سائنٹیفک بھی ۔ آج سائنس جس مقام پر پہنچ چکی ہے ، وہاں عالم آخرت سائنس کی ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے ، وہ اب محض مذہب کی ضرورت نہیں رہا ۔

اس کتاب میں تفصیل سے دکھایا گیا ہے کہ آخرت کو مانے بغیر موجودہ زندگی بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس کی ساری معنویت اور خوب صورتی جاتی رہتی ہے۔ انسانی شخصیت کی تعمیر کے لیے کوئی ٹھوس بنیاد باقی نہیں رہتی ۔ انسان اگر صرف موت کے سائے میں جی رہا ہو ، کسی دائمی زندگی کی اسے توقع نہ ہو تو اس کی زندگی کو ایک المیہ کے سوا کسی دوسری چیز سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا ۔ زندگی سے موت فائق و برتر نہیں ہو سکتی ۔ یہ ممکن نہیں کہ زندگی پر موت کو فتح حاصل ہو سکے ۔ اگر یہ ممکن ہوتا تو زندگی کبھی نمودار نہ ہوتی ۔ موت زندگی کا خاتمہ نہیں کر سکتی ۔ پھر یہ موت کیا ہے ؟ اس کا کیا مقصد ہے ؟ انسان مر کر کہاں جاتا ہے ؟ ان سبھی پہلوؤں پر اس کتاب میں گفتگو کی گئی ہے۔

خواہ وہ ملحدین کا نظریہ ہو یا عقیدہ تناسخ ہو یا اور کوئی نظریہ __ آخرت کے مخالف جو نظریات پائے جاتے ہیں ، اس کتاب میں ان پر علمی اور سنجیدہ گفتگو کی گئی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page