Al-Risala · January 1977 · page 17

مطالعہ

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۱۷

مطالعہ

حضرت عثمان نے اپنی خلافت کے دوسرے سال ؁۲۵ ھ میں جمع قرآن کا کام کیا۔ صدیق اکبر کا تیار کرایا ہوا مصحف، جو حضرت حفصہ کے پاس محفوظ تھا، اس کو انھوں نے منگوایا، زید بن ثابت کی نگرانی میں اس کے چھ نسخے تیار کرائے۔ ایک ایک نسخہ شام، بصرہ، کوفہ، مکہ اور مدینہ والوں کے لئے خاص کیا اور حکم دیا کہ اس کے سوا جو مصاحف ہیں وہ محو کر دیے جائیں۔ اور ایک نسخہ خود اپنے پاس رکھا۔ اس کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ قرآن کی قرأت میں اختلاف پیدا ہوگیا تھا۔ مثلاً یزید نخعی کہتے ہیں کہ میں ولید بن عقبہ کے زمانہ میں ایک مسجد میں تھا۔ ایک شخص نے آواز دی: جو شخص ابو موسیٰ کی قرأت پر قرآن پڑھتا ہو وہ باب کندہ کے حلقہ میں آجائے۔ دوسرے نے آواز دی: جو ابن مسعود کی قرأت پر قرآن پڑھتا ہو وہ دار عبداللہ کے حلقہ میں آجائے۔ دونوں سورہ بقرہ کی ایک آیت میں مختلف تھے۔ ایک اتموا الحج والعمرۃ للبيت پڑھتا تھا اور دوسرا اتموا الحج والعمرۃ للہ۔ اس طرح کے اختلافات کثرت سے پیدا ہوگئے تھے اور لوگ اپنی پسندیدہ قرأت مصحف عثمانی محفوظ تاشقند کا ایک صفحہ یہ نسخہ ۳۵۳ صفحات پر مشتمل ہے۔

ہر صفحہ کا سائز ۳۵ × ۵۶ سنٹی میٹر ہے۔ اور ہر صفحہ میں دس سطریں ہیں۔

بالمقابل عکس میں سورہ انعام رکوع ۱۴ کی ابتدائی چند آیتیں نظر آ رہی ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues

Printed page