مشینی اصلاح کی ناکامی
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۶
آخوت کی طرف ہو جائے A K H I R A T O R I E N T E D L I F E غزوہ ذات السلاسل کا واقعہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن العاص کو لشکر کا سردار مقرر کیا۔ مگر پورا لشکر بیک وقت تیار نہ تھا۔ آپ نے عمرو بن العاص کو ایک دستہ کے ساتھ پہلے روانہ کر دیا۔ اس کے بعد دو سو مہاجرین وانصار کے ساتھ دوسرا دستہ تیار ہوا اور ابو عبیدہ بن الجراح کی سرداری میں روانہ ہوا۔ ان کو جھنڈا دیتے ہوئے آپ نے ان کو جو نصیحتیں کیں، ان میں سے ایک یہ تھی : جب تم اپنے ساتھی (عمرو بن العاص) سے ملو تو تم دونوں مل کر کام کرنا، اختلاف مت کرنا ( اذا قدمت علی صاحبك فتطاوعا ولا تختلفا )
ابو عبیدہ کا دستہ جب مدینہ سے چل کر عمرو بن العاص کے پاس پہنچا تو نماز کا وقت آگیا تھا۔ صفیں کھڑی ہوئیں، ابو عبیدہ نے چاہا کہ امامت کریں۔ عمرو بن العاص نے اس سے اختلاف کیا۔ انھوں نے کہا آپ میری مدد کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ یہ صحیح نہیں کہ آپ میری امامت کریں جب کہ اصل امیر میں ہوں۔ ابو عبیدہ کے دستہ کے لوگ، جن میں ابو بکر ؓو عمر بھی تھے ، نے کہا کہ عمرو بن العاص اپنے دستہ کے امیر ہیں اور ابو عبیدہ اپنے دستہ کے۔ عمرو بن العاص نے اس تقسیم سے اتفاق نہیں کیا، اور کہا: تم لوگ میری مدد کے لئے بھیجے گئے ہو، پس میں ہی قائد ہوں ( انما انتم امددت بكم فانا القائد )
اس کے بعد ابو عبیدہ بن الجراح نے اپنا حق واپس لے لیا، اور کہا: رسول اللہ نے مجھے نصیحت کی تھی کہ تم عمرو بن العاص سے ملو تو جھگڑا مت کرنا، اتفاق کے ساتھ کام کرنا : :وانک والله ان عصيتني لا طعتك خدا کی قسم اگر تم میری بات نہ مانو تب بھی میں تمھاری اطاعت کروں گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues