میدان ابھی تک خالی هے
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۸
وغیرہ نے پچھلے چار برسوں میں تقریباً ڈیڑھ سو مقالات شائع کئے ہیں جن میں ٹی ایم کے اثرات کا اقرار انسانی عضویات (HUMAN PHYSIOLOGY) پر کیا گیا ہے ۔ اکتوبر ۱۹۷۳ کے آخری ہفتہ میں ۲۶ ویں انٹرنیشنل کانگریس آف فزیالوجیکل سائنسز کا اجلاس نئی دہلی میں ہوا تھا ۔ اس موقع پر دنیا بھر کے سائنس دانوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی ۔ یہ اجتماع اتنے بڑے پیمانہ پر کیا گیا تھا کہ اشو کا ہوٹل میں اس کی کارروائیوں کے لئے گیارہ کانفرنس روم مخصوص کرنے پڑے ۔ آنے والوں میں متعدد وہ لوگ بھی تھے جو اس ہندوستانی سائنس سے متاثر ہیں۔ مثلاً مہارشی انٹرنیشنل یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر آر ۔ کے ۔ ویلیس (R. K. WALLACE) اور ڈاکٹر لارنس ڈومیش (LAWRENCE DOMASH)
وغیرہ ۔
کہا جاتا ہے کہ انسانی دماغ میں بے پناہ ایسے مزید امکانات چھپے ہوئے ہیں جن کا عام انسان کو تجربہ نہیں ہوتا ۔ ٹی ایم ان امکانات میں داخلہ کا دروازہ ہے ۔ عام طور پر انسان اپنے دماغ کو صرف پانچ فی صد تک استعمال کر پاتا ہے ۔ مگر ٹی ایم کے ذریعہ یہ ممکن ہے کہ اس کو صد فی صد استعمال کیا جاسکے۔ اپنی دماغی قوت کو کام میں لا کر ایک شخص اپنے سر درد کو دور کر سکتا ہے ۔ اور بلڈ پریشر کو تبدیل کر سکتا ہے ۔ دماغ اور کمپیوٹر کے درمیان ریڈیائی مواصلات قائم کئے جاسکتے ہیں۔ ٹی ایم کے ذریعہ دوران خون کے نظام ، تنفس کے نظام ، جسمانی ٹمپریچر کے نظام ، تحلیل غذا کے نظام کو متاثر کیا جاسکتا ہے ۔ تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ تربیت یافتہ یوگی اپنے جسم کے ایک حصہ کا ٹمپر یچر اس طرح بدل سکتا ہے کہ دیگر حصہ کا ٹمپر یچر تبدیل نہ نہ ہو ۔ وہ یعنی کی غیر معمولی مقدار جسم میں داخل کر کے اس کو ہضم کر سکتا ہے یاقے کے ذریعہ خارج کر سکتا ہے ، بعض لوگوں کو ایئر ٹائٹ کوٹھنے میں لمبی مدت کے لئے بند کر دیا گیا اور دیکھا گیا کہ وہ عام انسان کے مقابلہ میں ٥٠ فی صد کم آکسیجن پر زندہ رہ سکتے ہیں۔ نوبل انعام یافتہ برائن جوزف سن (BRIAN JOSEPHSON) نے کہا ہے کہ ٹی ایم کے ذریعہ دماغی توازن پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور اس طرح غم اور تناؤ سے بچا جا سکتا ہے۔ ٹی ایم کی طرف سائنس دانوں کی توجہ کی خاص وجہ جیسا کہ ڈاکٹر ڈروش نے کہا ہے، یہ ہے کہ اس کی تعلیم یکساں طور پر ساری دنیا میں دی جا سکتی ہے اور تحقیقات کے جدید سائنسی طریقوں کے ذریعہ اس کا تجربہ کیا جا سکتا ہے۔
ٹی ایم کی اس مقبولیت کو دیکھ کر اس کے بعض پر جوش داعی یہ کہتے ہیں کہ مستقبل کے انسان کا مذہب ہندو ازم یاویدانت ہوگا تاہم ابھی وہ یہ نہیں بتا سکے ہیں کہ ٹی ایم اپنی موجودہ یا آئندہ کی متوقع کامیابیوں کے باوجود ، کس طرح اس سوال کا جواب ہے جس کے لئے انسان قدیم ترین زمانہ سے ایک مذہب کی تلاش کرتا رہا ہے۔
١۔ ٹی ایم اپنی نوعیت کے اعتبار سے کوئی نئی چیز نہیں۔ یہ وہی چیز ہے جس کو مسلم صوفیاء اور دوسرے مذاہب کے درویش ذہنی ریاضتوں کے ذریعہ مختلف زمانوں میں حاصل کرتے رہے ہیں۔ ہندوستانی یوگیوں اور سادھوؤں نے بلاشبہ اس فن میں خصوصی کارنامے دکھائے ہیں۔ مگر اس طریقہ کے آخری ممکن استعمال کے بعد بھی انسان کو جو چیز ملتی ہے وہ صرف انسان کی مادی قوتوں میں بعض ذہنی قوتوں کا اضافہ ہے۔ یہ زیادہ سے زیادہ بس مادی سائنسوں کی ایک توسیع ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ وہ انسان جواب تک صرف مادی تدابیر کے ذریعہ اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی کوشش کرتا تھا، وہ اپنی دماغی لہروں یا اپنی ارادی قوت سے بھی خارجی اشیاء پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرنے لگے
‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues