Al-Risala · April 1977 · page 9

میدان ابھی تک خالی هے

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۹

مگر انسانی قوت کی یہ توسیع اس سوال کا جواب نہیں ہے جس کے لئے انسان ایک مذہب یا اخلاقی نظام کی تلاش کر رہا ہے۔ یہ مسئلہ انسان کی ارادی قوت کی توسیع کے بارے میں نہیں بلکہ اُس کو کنٹرول کرنے کے بارہ میں ہے مذہبی نقطہ نظر سے اصل سوال یہ ہے کہ وہ انسانی ارادہ جو کبھی مادی بٹن اور کبھی اپنی دماغی لہروں کو استعمال کرکے خارجی دنیا پر اثر انداز ہوتا ہے خود اس ارادہ کو کس طرح نظم و ضبط کے دائرہ میں لایا جائے۔ ایٹمی ملکوں کےوزراءجنگ اگر اپنی دماغی لہروں یا اپنی قوت ارادی کے ذریعے اپنے راکٹوں اور بمبار جہازوں کو متحرک کرنے لگیں تو اس سے اس سوال کا جواب نہیں ملتا کہ دنیا کو ایسے وزراء جنگ سے کس طرح بچایا جائے جو یہ طاقت رکھتے ہیں کہ چند گھنٹوں کے اندر ساری آباد دنیا کو خاکستر بنا دیں۔

۲۔ مذہبی یا فلسفیانہ اعتبار سے دوسرا مسئلہ جو انسان کے سامنے درپیش ہے، وہ یہ کہ اگر اس کائنات میں کوئی ایسی آخری حقیقت ہے جو انسان سے ماورا ہے، تو انسان سے اس کا کیا تعلق ہے۔ انیسویں صدی کے آخر تک علمی دنیا میں یہ فرض کر لیا گیا تھا کہ انسان سے بالا تر اس کائنات میں کوئی حقیقت نہیں۔ مگر موجودہ صدی میں ایسے کثیر شواہد سامنے آئے ہیں جو انسان یا کائنات کو آخری حقیقت تسلیم کرنے میں مانع ہیں اور اگر براہ راست نہیں تو بالواسطہ طور پر یہ قرینہ پیدا کرتے ہیں کہ اس عالم میں انسان سے بلند تر بھی کوئی حقیقت ہے۔ اس قرینہ کی وجہ سے یہ سوال شدت کے ساتھ انسان کے سامنے آگیا ہے کہ وہ اپنے اور اس آخری حقیقت کے درمیان تعلق کو دریافت کرے۔ یہی وہ سوال ہے جس نے جدید انسان کو دوبارہ مذہب کے مطالعہ کی طرف مائل کر دیا ہے۔

ظاہر ہے کہ ٹی ایم کا اس مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ زیادہ سے زیادہ انسان اور انسان کے درمیان ایک مخفی رشتہ کی دریافت ہے انسان اور خدا کے درمیان رشتہ کو دریافت کرنا اس کے حدود عمل سے باہر ہے۔ نہ وہ اس کا مدعی ہے نہ اب تک ایسا کوئی قرینہ سامنے آیا ہے کہ اس سے یہ امید کی جاسکے کہ وہ انسان اور خدا کے درمیان رشتہ کو دریافت کر کے مذہب کو غیر ضروری چیز ثابت کر دے گا۔

جنوب مغربی سمت سے ماؤنٹ ایورسٹ پر چڑھائی کرنا اب تک بہت مشکل سمجھا جاتا تھا۔ اگست ۱۹۷۵ میں پہلی بار اس کو ایک برطانوی ٹیم نے سر کیا جس کے قائد کرس بوننگٹن تھے۔ کہا جاتا ہے کہ برطانوی ٹیم کی اس کامیابی کا اہم سبب ایک برطانوی فرم کی ایک ایجاد تھی۔ اس نے بہت ہلکے وزن کے آکسیجن سلنڈر بنائے۔ ان سلنڈروں کے ذریعہ یہ ممکن ہو گیا کہ ایک سو لیٹر آکسیجن ایک ایسے سلنڈر میں رکھا جا سکے جس کا وزن صرف ۳۳ کلو گرام ہو۔ یعنی تقریباً نہیں کے برابر۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قومی زندگی میں کس طرح ایک شعبہ میں کچھ لوگوں کے آگے بڑھنے کے لئے ضروری ہے کہ دوسرے شعبوں میں کچھ دوسرے لوگ آگے بڑھے ہوئے ہوں۔ جس قوم میں سارے لوگ صرف تقریر و تحریر کا کمال دکھانے لگیں، وہ کبھی ترقی کے مقام پر نہیں پہنچ سکتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues

Printed page