میدان ابھی تک خالی هے
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۴۰
سعودی عرب قطب جنوبی سے برف کے کوہ پیکر تودے لاکر اپنی پانی کی ضرورت پوری کرے گا سعودی عرب اپنے تیل کے ذخیروں سے صنعتی گفت و شنید کے بعد طے پایا ہے۔ اس منصوبے کے تحت دس دنیا کی کبھی نہ ختم ہوتے والی تیل کی پیاس بجھاتا ہے۔ مگر کروڑ ٹن کا ایک برف کا تودہ (آئس برگ) ۱۰۰۰ کلومیٹر دو طرف سمندروں سے گھرے ہوئے اس ملک کو میٹھے پانی کا فاصلہ طے کر کے قطب جنوبی سے سعودی عرب کے ساحل کے لئے بیرونی دنیا کی ضرورت ہے۔ پانی کی کمی پوری کرنے پر لایا جائے گا۔ اس اندیشے کے پیش نظر کہ راستہ میں سورج کے لئے سعودی عرب اس سے پہلے سمندری پانی کو صاف کی گرمی سے وہ پگھل نہ جائے ، اس کو پلاسٹک سے ڈھک کرنے کا کارخانہ لگا چکا ہے جو کھاری پانی کو صاف کرلے دیا جائے گا۔ اس برفانی پہاڑ کو کھینچنے کے لئے پانچ قسم کے روزانہ ا ملین گیلن سے زیادہ میٹھا پانی تیار کرتا ہے ساب جہاز استعمال ہوں گے جو نہایت مضبوط ڈوریوں سے تازہ ترین خبر یہ ہے کہ برف کے پہاڑ (آئس برگ) جو قطب تودہ سے بندھے ہوئے ہوں گے۔ برفانی تودہ قطب جنوبی جنوبی کے سمندروں میں تیر رہے ہیں، ان کو کھینچ کر عرب کے سے چل کر بحر ہند میں داخل ہوگا۔ باب المندب پر اس کو توڑ ریگستان میں لایا جائے گا اور ان کو پگھلا کر تازہ پانی حاصل کر ٹکڑے کیا جائے گا تاکہ اس تنگ گزرگاہ سے نکل کر دہ کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ کثیر دولت کا متقاضی ہونے کے علاوہ بحر احمر میں داخل ہو سکے۔ اس پورے سفر میں تقریباً چھ مہینے لگیں گے جب کہ راستہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو اور برفانی تودہ ، حسب نقشہ ، فی گھنٹہ ایک سمندری میل کی میٹھا بنانے کے مقابلہ میں وہ سستا ہو گا۔
یہ منصوبہ سعودی شہزادہ محمد الفیصل اور فرانسیسی ماہر ڈاکٹر وکٹر (PAUL EMIL VICTOR) کے درمیان اس منصوبے پر عمل شروع کرنے سے پہلے کئی ابتدائی تیاریاں کرنی ہوں گی۔ سب سے پہلے خلائی سٹلائٹ کے
‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues