میدان ابھی تک خالی هے
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۱۱
ایک شخص اپنے بچوں کے ساتھ باغ میں داخل ہوا۔ وہاں کیڑے مکوڑے تھے۔
چوہے اور چیونٹیاں تھیں۔ پھر سب کے بیچ میں ایک بھیانک بھیڑیا کھڑا ہوا تھا۔ اس منظر کو دیکھنے کے بعد اس کے م سے کیا چیخ نکلے گی، وہ بے ساختہ پکار اٹھے گا:
بچو! بھیڑیا۔ بچاؤ اپنے کو بھیڑیئے سے۔ بھیڑیئے کے بھیانک چہرے کو دیکھنے کے بعد وہ دوسری تمام چیزوں کو بھول جائے گا۔ اس کو ایسا نظر آئے گا گو یا سارا باغ بھیڑیا بن گیا ہے۔ اس کے سامنے اس کے سوا کوئی مسئلہ نہ ہوگا کہ بھیڑیئے سے بچنے کی تدبیر کرے۔
ہم جس دنیا میں ہیں، اس میں بھی بہت سے مسائل ویسے ہی جیسے باغ میں کیڑے اور چیونٹیاں ہیں۔ مگر ماضی کے بیچ میں ایک سب سے بڑا مسئلہ کھڑا ہوا ہے۔ یہ آخرت کا مسئلہ ہے۔ اگر ہم اس کو جان لیں تو ہم کو پوری کائنات میں آخرت کے سوا کوئی دوسری چیز نہ دکھائی نہ دے۔ اس کے بعد ہم آخرت کے لئے پکاریں گے، نہ کہ کیڑوں اور چیونٹیوں کے لئے۔
ذریعہ برفانی تودہ کی جائے وقوع معلوم کی جائے گی۔ یہ بھی اسی سے معلوم ہو گا کہ اس علاقہ کے سمندروں کی لہریں کدھر سے کدھر جاتی ہیں۔ اس کے بعد ہوائی جہاز ان کے اوپر اُڑان کرکے اندازہ کریں گے کہ ان کی لمبائی، چوڑائی اور اونچائی ٹھیک ٹھیک کتنی ہے اور ان کی صورت کیا ہے۔ پھر جب ان کو خاص طرح کے تاروں سے باندھ کر سمندری جہازوں سے کھینچا جائے گا تو اس سلسلے میں توازن کو ملحوظ رکھنا بہت ضروری ہوگا تاکہ برفانی تودہ ٹوٹ نہ جائے۔ باب المندب پر اس کو کاٹنے کے لئے تھرمل ڈرلنگ کا طریقہ استعمال کیا جائے گا۔ یہ ایسا ہی ہوگا جیسے مکھن کی بڑی ٹکیہ کو باریک تار سے کاٹا جائے۔ ڈاکٹر وکٹر نے بتایا کہ اس منصوبہ پر وہ پچھلے پندرہ سال سے مطالعہ وتحقیق کرتے رہے ہیں اور اب یہ منصوبہ آخری مرحلہ پر پہنچ چکا ہے۔
ساحل عرب پر پہنچنے کے بعد برفانی تودے کے ٹکڑوں کو مختلف مقامات پر منتقل کیا جائے گا۔ سعودی عرب جیسے گرم ملک میں ان برفانی تودوں کو پگھلانے کے لئے کسی مشینی عمل کی ضرورت نہیں۔ وہ سورج کی گرمی سے پگھلتا رہے گا۔ اندازہ ہے کہ ۱۲۰ گز چوڑے تودے کو سورج کی گرمی سے پگھلنے میں ۱۴ سے ۱۸ ماہ تک لگیں گے۔ منصوبہ کامیاب رہا تو ایک برفانی تودہ ایک سال سے زیادہ مدت کے لئے کافی ہوگا۔
یہ منصوبہ صرف پینے کا پانی مہیا کرنے ہی کے لئے کار آمد نہیں ہوگا بلکہ زراعت اور باغبانی اور صنعت میں بھی اس سے کام لیا جاسکے گا۔ ریگستانی علاقوں یا خشک سالی کے زمانوں کے لئے یہ منصوبہ ایک عظیم تحفہ کی حیثیت رکھتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues