جانا ہے بہت دور
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۱۲
جانا ہے بہت دور
ایک بزرگ نے ایک تعلیمی ادارہ قائم کیا۔ شروع شروع میں اس تعلیم گاہ کو بڑی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اساتذہ کو وقت پر تنخواہیں نہ ملتیں۔ طلباء کے لیے بعض اوقات کھانے کا انتظام نا ممکن ہو جاتا۔ چھپر کے سائے کے نیچے تعلیم دی جاتی اس طرح کی بے شمار دشواریوں کے درمیان اس درس گاہ کو سفر کرنا پڑا۔
مگر دشواریاں جس طرح آدمی سے کچھ چیزیں چھینتی ہیں، اسی طرح وہ اسے کچھ چیزیں دیتی بھی ہیں۔ ظاہری اسباب کی کمی عزم و ہمت کو بڑھانے کا سبب بنتی ہے۔ ایسے جذبات اس کے اندر پیدا ہوتے ہیں جو فراوانی کے اندر بھی پیدا نہیں ہوتے۔
اس تعلیمی ادارے کے ابتدائی زمانہ کا واقعہ ہے ایک روز سارے ادارے میں اداسی چھائی ہوئی تھی ۔ حالات بے حد نامساعد نظر آ رہے تھے۔ درس گاہ کے ناظم نے طلبا و اساتذہ کا ایک اجتماع کیا جب وہ تقریر کرنے کھڑے ہوئے تو بے اختیار ان کی زبان سے نکلا۔ " موجودہ حالات میں ممکن ہے آپ کا جی ملامت کرتا ہو کہ آپ کہاں اگر پھنس گئے۔ کسی بنی بنائی درس گاہ میں گئے ہوتے تو آرام سے رہ سکتے تھے۔ مگر یہ گھبرانے کی بات نہیں۔ کیونکہ دوسرے اگر حال کے وارث ہیں تو یہاں آپ ایک نئے مستقبل کی تعمیر کر رہے ہیں لوگ تاریخ خواں ہوتے ہیں مگر آپ کو قدرت نے ایک ایسے مقام پر کھڑا کیا ہے کہ آپ تاریخ ساز بن سکتے ہیں۔ "
یہ الفاظ جن حالات میں کہے گئے تھے اس کے اعتبار سے وہاں اس نے بجلی کا کام کیا۔ طلبہ اور اساتذہ میں ایک نیا جوش پیدا ہو گیا۔ وہ زندگی کی ایک اعلیٰ ترین اخلاقی قدر سے آشنا ہوئے۔ یہ کہ مستقبل کی تعمیر کے لیے حال میں جدوجہد کی جائے۔ یہ قدرِ نفسیاتی طور پر اس وقت ان کے لیے لامعلوم رہتی جب کہ وہ ایسے حالات میں نہ ہوتے۔ اسی طرح ناظم درس گاہ کی زبان سے کبھی ہرگز یہ الفاظ نہ نکلتے اگر وہ آسودگی اور فارغ البالی میں ہوتے۔ ناظم اسی لیے یہ الفاظ بول سکے اور سننے والے اسی لیے ان کو سمجھ سکے کہ وہ دشوار حالات میں تھے۔ آسانیوں کی فضا میں انھیں یہ سبق نہیں مل سکتا تھا۔
جو لوگ اپنے آپ کو مشکل حالات میں پائیں وہ اسے اپنی بدقسمتی تصور کرتے ہیں حالانکہ یہ صرف سمجھنے کی غلطی ہے اگر صحیح ذہن ہو اور عزم بیدار ہو تو مشکل حالات اس سے زیادہ بڑی چیزیں دیتے ہیں۔ جو آسانیوں اور راحتوں میں کسی کو ملتی ہے۔ دشواریاں آپ کو اعلیٰ ترین انسانی قدروں سے آشنا کرتی ہیں۔ آپ کے اندر سوزو درد پیدا کر کے آپ کے کلام کو بے پناہ بنادیتی ہیں مشکلات کو عبور کرنے کا نیا ولولہ پیدا کرتی ہیں اور بالآخر آپ کو ان بلند ترین انسانوں میں شامل کرتی ہیں جن کو تاریخ خواں کے مقابلے میں تاریخ ساز کہا جاتا ہے۔
اوپر جس واقعہ کا حوالہ دیا گیا، وہ جامعۃ الرشاد اعظم گڑھ کا واقعہ ہے اور جس نے مذکورہ تقریر کی وہ مولانا مجیب اللہ ندوی تھے۔ اب خدا کے فضل سے یہ ادارہ "چھپر" کے دور سے نکل کر "بلڈنگ" کے دور میں داخل ہو چکا ہے اور تعلیم کے میدان میں ملت کو ایک نئی راہ دینے کے لیے کوشاں ہیں۔ ہر بار جب کوئی شخص نیا کام شروع کرتا ہے تو اس میں مذبذب کا مرحلہ لازما آتا ہے، لیکن اگر وہ جمارہے تو استحکام کے مرحلہ پر پہنچنے سے بھی کوئی اسے روک نہیں سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues