Al-Risala · April 1977 · page 13

جانا ہے بہت دور

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۱۳

اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت (۶۱۰) ہوئی تو ایران کی ساسانی سلطنت اور روم کی بازنطینی سلطنت کے درمیان تصادم جاری تھا۔ اس دو طرفہ جنگ میں تقریباً بیس سال گزر گئے ۔ ابتدا ء ایرانیوں کو غلبہ حاصل ہوا ۔ 615 تک رومی سلطنت کے تقریباً تمام شمالی مقبوضات اردن ، شام، فلسطین، عراق، مصر سب ایرانیوں کے قبضہ میں چلے گئے یہ ٹھیک وہی وقت تھا جب کہ مکہ میں اسلام اور غیر اسلام کے درمیان کش مکش جاری تھی۔ یہ کش مکش اتنی شدید ہو چکی تھی کہ 615میں مکہ کے مسلمانوں کی بڑی تعداد کو اپنا وطن چھوڑ کر پڑوسی ملک حبش چلا جانا پڑا۔ ایسے حالات میں اہل کتاب رومیوں کے مقابلہ میں بت پرست ایرانیوں کی فتح مکہ والوں کے لیے گفتگو کا خصوصی موضوع بن گئی مشرکین نے مسلمانوں سے کہا کہ جس طرح پڑوس کے ملکوں میں بت پرست لوگ آسمانی کتاب کے حاملین پر غالب آئے ہیں، اسی طرح ہم بھی تمھارے اوپر غالب آجائیں گے۔ عین اس وقت قرآن کی سورہ نمبر ۳۰۰ اتری اور اعلان کیا گیا کہ چند سالوں کے بعد دوبارہ انقلاب آئے گا اور رومی سلطنت ایرانیوں کے اوپر غالب آ جائے گی۔

سورہ روم کی یہ آیتیں مکہ والوں کے لئے مذاق کا نیا موضوع بن گئیں۔ ابی بن خلف نے حضرت ابوبکر صدیق سے کہا کہ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ اور اگر تم کو یقین ہے کہ ایسا ہی ہوگا تو آؤ مجھ سے شرط کر لو۔ اس نے اپنی طرف سے یہ شرط رکھی کہ رومی اگر تین سال کے اندر غالب آگے تو میں دس اونٹ تمہیں دوں گا ۔ اور اگر اس کے خلاف ہوا تو تم دس اونٹ مجھے دینا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ قرآن میں بضع سنین کا لفظ ہے اور عربی میں بضع کا اطلاق دس سے کم پر ہوتا ہے۔ اس لئے دس کے اندر کی شرط کرو اور اونٹوں کی تعداد بڑھا کر ایک سو کر دو۔ حضرت ابو بکر نے دوبارہ ابی بن خلف سے یہ بات کہی۔ وہ راضی ہو گیا کہ دس سال کے اندر دونوں میں سے جس کی بات غلط ثابت ہوگی وہ دوسرے فریق کو سو اونٹ دے گا۔

قرآن کی پیشین گوئی لفظ بلفظ پوری ہوئی۔

نو سال بعد قیصر روم نے ۶۲۴ میں ایرانیوں کو نینوی (عراق) کے مقام پر فیصلہ کن شکست دی اور اپنے تمام چھینے ہوئے علاقے ایرانیوں سے واپس لے لئے۔ اس مدت میں مکہ کی کش مکش اس نوبت کو پہنچ چکی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے تمام ساتھی مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے گئے۔ دونوں فریقوں کے درمیان کش مکش اس شدید نوبت کو پہنچی کہ ۶۲۴ میں جنگِ بدر واقع ہوئی۔ اس جنگ میں مسلمانوں کو فتح ہوئی ، اور مشرکین مکہ کے اکثر بڑے بڑے سردار مارے گئے۔ اس سخت ترین ہیجانی فضا میں رومیوں کے غلبہ کی خبر آتی ہے۔ بدر کی شکست نے مکہ والوں کی دشمنی کو جنون کی حد تک پہنچا دیا تھا۔ مگر حضرت ابو بکرؓ نے جب ابی بن خلف کے پاس پیغام بھیجا کہ ہماری بات پوری ہو گئی ، اس لئے تم شرط کے مطابق مجھے ایک سو اونٹ

‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues

Printed page