جانا ہے بہت دور
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۱۴
ادا کر د، تو مکہ میں کسی نے مخالفت نہ کی، اور ابی بن خلف نے کسی قسم کی تکرار کے بغیر پورے ایک سو اونٹ ابو بکر صدیق کے پاس بھیج دیئے۔ جب یہ اونٹ مدینہ پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر کو حکم دیا کہ ان کو صدقہ کر دو۔
سخت ترین دشمنی کے باوجود مشرکین عرب اس بات سے ناواقف تھے کہ شرط کے مطابق اپنے حریف کو ایک سو اونٹ نہ دینے کے فرضی بہانے تلاش کریں۔ یا ان کی تعداد میں کمی کرنے کی کوشش کریں۔ وہ ایک ہی بات جانتے تھے: جو بات طے ہو گئی ہے اس کو پورا کرنا ہے۔ خواہ وہ اپنے دوست کے ساتھ ہو یا دشمن کے ساتھ۔
۲۔ صلح حدیبیہ کے بعد ذی الحجہ6 ھ میں آپ نے ارادہ فرمایا کہ امرار اور سلاطین کے نام دعوتی خطوط بھیجے جائیں۔ اس سلسلے میں تقریباً ایک ماہ ضروری تیاری میں صرف ہوا۔ اور محرم ۷ھ ہجری میں آپ نے بادشاہوں کے نام اپنے سفیروں کے ذریعہ خطوط روانہ کئے۔
انھیں میں سے ایک خط ہرقل قیصر روم کے نام تھا جس کی سلطنت اس وقت شام سے لے کر قسطنطنیہ تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس کے پاس دحیہ کلبی خط لے کر گئے۔ ہر قل کو اس زمانہ میں ایران کے مقابلہ میں فتح حاصل ہوئی تھی اور اپنی نذر کے مطابق پیدل چل کر فلسطین آیا ہوا تھا۔ ہرقل کی خدمت میں آپ کا خط پیش کیا گیا تو اس نے حکم دیا کہ اس علاقہ میں عرب کا کوئی شخص آیا ہو تو اس کو میرے سامنے پیش کرو۔ اتفاق سے ابو سفیان (جو اس وقت تک ایمان نہیں لائے تھے اور ابو جہل کے بعد مشرکینِ مکہ کے سب سے بڑے لیڈر تھے، اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ بغرضِ تجارت شام آئے ہوئے تھے۔ ان کو ڈھونڈ کر لایا گیا۔ قیصر نے کہا، ”تمھارے یہاں جس آدمی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے، میں اس کی بابت تم سے سوال کروں گا تم اپنے علم کے مطابق اس کا جواب دو۔ “ اس موقع پر ہرقل اور ابو سفیان کے درمیان جو گفتگو ہوئی، وہ سیرت کی تمام کتابوں میں موجود ہے۔ اس وقت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ابو سفیان کے نزدیک ان کے سب سے بڑے دشمن تھے۔ وہ آپ کو مکمل طور پر ختم کرنے کا منصوبہ بنائے ہوئے تھے۔ مگر ساری گفتگو میں ابو سفیان نے ایک بھی غلط بات نہیں کی: چند سوال و جواب یہ تھے:
ہرقل: محمد کا نسب کیسا ہے ابو سفیان: شریف و عظیم ہرقل: کیا اس شخص پر کبھی جھوٹ بولنے کی تہمت لگائی گئی۔
ابو سفیان: کبھی نہیں ۔
ہرقل: ان کے ماننے والوں کی تعداد گھٹ رہی ہے یا بڑھ رہی ہے۔
ابو سفیان: بڑھ رہی ہے۔
ہرقل: وہ کس بات کی تعلیم دیتے ہیں ۔
ابو سفیان: وہ توحید اور حسن اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں۔ ہرقل: کیا وہ عہد کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں ابو سفیان: نہیں ابو سفیان کہتے ہیں کہ میں نے کسی سوال کے جواب میں غلط بیانی نہیں کی اور نہ طعن کیا۔ مجھے اندیشہ تھا کہ میرے
‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues