جانا ہے بہت دور
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۱۵
ساتھی مجھے جھوٹا کہیں گے۔ صرف آخری سوال کے جواب میں وہ اتنا اضافہ کر سکے" امسال ہمارے ان کے درمیان ایک معاہدہ (حدیبیہ) ہوا ہے، دیکھئے اس میں وہ کیا کرتے ہیں"۔
اس سوال و جواب کے وقت ابو سفیان اور ان کے ساتھی مشرک تھے اور سب کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سخت ترین دشمنی تھی۔ مگر ان کو یہ گوارا نہ تھا کہ آپ کے بارہ میں کوئی غلط بیان دیں یا آپ کو مطعون کرنے کی کوشش کریں۔
۳۔ نبوت کے دسویں سال آپ کے چچا ابو طالب کا انتقال ہو گیا۔ اب خاندانی رسم کے مطابق عبد العزی (ابو لہب) بنی ہاشم کا سردار منتخب ہوا جو اس وقت خاندان کا سب سے بزرگ آدمی تھا۔ ابو لہب آپ کے خاندان میں آپ کا سب سے بڑا دشمن تھا۔ شعب ابی طالب کے مقاطعہ کے زمانہ میں سارے خاندان بنی ہاشم نے آپ کا ساتھ دیا تھا۔ صرف ایک ابو لہب تھا جو آپ سے الگ رہا۔ اب جب کہ ابو لہب کو خاندان کے سردار کا مقام بھی مل گیا، اس نے آپ کو خاندان سے خارج کر دیا۔ خاندان سے خارج کیا جاتا قدیم عرب میں بد ترین سزا تھی۔ اس کے بعد آدمی بالکل تنہا ہو جانا تھا۔ جب کہ قبائلی نظام میں خاندانی پناہ کے سوا کوئی پناہ نہ تھی جس کے تحت آدمی محفوظ طور پر اپنی زندگی گزار سکے ۔ چنانچہ اس کے بعد مکہ میں لوگوں کی مخالفتیں بہت بڑھ گئیں۔ اس سے پہلے زیادہ تر زبانی طنز و تشنیع کا مقابلہ کرنا پڑتا تھا۔ اب جارحانہ قسم کی سختیاں شروع ہو گئیں ۔ یہ حالات دیکھ کر آپ نے ارادہ کیا کہ عرب کے دوسرے قصبے شہر طائف جائیں اور وہاں کے لوگوں سے پناہ کی درخواست کریں ۔
آپ مکہ سے پیدل چل کر طائف پہنچے جو مکہ کے جنوب مشرق میں 65میل پر واقع تھا۔ امید کے خلاف وہاں کے لوگوں نے بہت برا برتاؤ کیا ۔ نہ صرف یہ کہ آپ کو پناہ دینے پر تیار نہ ہوئے بلکہ آپ کو پتھر مار مار کر بستی سے نکل جانے پر مجبور کر دیا حتی کہ آپ کو وہاں کے لوگوں سے کہنا پڑا کہ دیکھو یہ خبریں مکہ نہ پہنچنے پائیں۔ ایک طرف اپنے وطن مکہ میں زمین کا تنگ ہو جانا، دوسرے طائف والوں کا وحشیانہ سلوک ، ان واقعات نے آپ پر شدت سے اثر کیا طائف سے واپسی پر آپ نے اپنے رب سے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے :
اللهم الیک اشکو ضعف قوتی و قلة حیلتی و عرب کے مشرکین نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کی شدید مخالفت کی لڑائیاں لڑیں۔ آپ کو اپنے وطن سے نکالا۔ مگر انھوں نے کبھی آپ کے خلاف کوئی ذلیل حرکت نہیں کی۔ آپ کو اپنے مخالفین کی طرف سے ذلیل اور رکیک حرکتوں کا تجربہ صرف ہجرت کے بعد ہوا جب کہ آپ کا سابقہ یہود کے ساتھ پیش آیا جو کتاب الہیٰ کے حامل تھے، جو اپنے نبیوں کا وارث کہتے تھے، جو گویا اس وقت کے "مسلمان" تھے !
‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues