Al-Risala · April 1977 · page 16

جانا ہے بہت دور

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۱۶

وهو انی علی الناس یا ارحم الراحمین خدایا میں تجھ سے اپنی قوت کی کمی اور اپنی بے سروسامانی اور لوگوں کی نظر میں حقیر ہونے کی شکایت کرتا ہوں ۔ طائف سے واپسی کے بعد کوئی دوسری جگہ نہ تھی جہاں آپ جائیں۔ کیونکہ مکہ سے نکالے ہوئے ایک شخص کو پناہ دینے کا کام طائف جیسے بڑے شہر کا کوئی سردار ہی کر سکتا تھا۔ مجبوراً آپ نے دوبارہ مکہ کا رخ کیا اور شہر کے باہر غار حرا میں اپنے خادم زید بن حارثہ کے ساتھ مقیم ہوئے۔ اب سوال یہ تھا کہ کیا کریں۔ چند روز کے غور و فکر کے بعد آپ نے مکہ کے ایک سردار مطعم بن عدی کے پاس پیغام بھیجا کہ میں غار حرا میں ٹھہرا ہوا ہوں۔ تم مجھ کو اپنی پناہ میں لے لو۔ تا کہ مکہ میں آکر رہ سکوں۔ مطعم ایک کافر تھا اور بدر سے پہلے کفر ہی کی حالت میں اس کا انتقال ہوا۔ نبی نجی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اس کے قومی دشمن کی حیثیت رکھتے تھے۔ مگر جب آپ نے اس سے حفاظت طلب کی تو اس کے لئے نا ممکن ہو گیا کہ وہ آپ کو اپنی حفاظت میں لینے سے انکار کر دے۔ اس کے چھ جوان لڑکے تھے، اس نے تمام لڑکوں کو حکم دیا کہ تم تلوارلے کر جاؤ اور محمد کو اپنی حفاظت میں مکہ لے آؤ۔ چنانچہ اس کے یہ لڑکے غارِ حرا پہنچے اور ان کی تلواروں کے سایہ میں آپ دوبارہ مکہ میں داخل ہوئے مکہ میں آکر آپ نے سب سے پہلے کعبہ کا طواف کیا، جب آپ طواف میں مشغول تھے تو مطعم بن عدی نے دروازہ پر کھڑے ہو کر اعلان کیا :

”میں نے محمد کو پناہ دی ہے، خبر دار کوئی انھیں تکلیف نہ پہنچائے“ مطعم بن عدی ایک کافر و مشرک تھا۔ نیز آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا۔ مگر جب آپ نے اس سے پناہ طلب کی تو اس کے لئے نا ممکن ہو گیا کہ آپ کو پناہ دینے سے انکار کر دے۔

یہ تھا کردار ان لوگوں کا جو مشرک و کافر کہے جاتے ہیں۔ طبقات ابن سعد (جلد ۱ ، صفحہ ۱۷۳) میں زہری سے منقول ہے کہ ایک یہودی نے کہا کہ تورات میں پیغمبر آخر الزماں کے جو اوصاف بیان ہوئے ہیں، وہ سب میں نے آپ کے اندر دیکھ لئے تھے۔ صرف ایک وصف باقی تھا ۔ اور وہ تھا حلم وبرد باری ۔ چنانچہ اس کے تجربہ کے لئے میں نے آپ کو ۳۰ دینار قرض دیئے ۔ اس کے بعد میں خاموش رہا۔ یہاں تک کہ جب مدت پوری ہونے میں صرف ایک دن باقی تھا میں آپ کے یہاں پہنچا اور سختی سے تقاضا کیا میں نے کہا میرا حق ادا کیجئے، اور میں جانتا ہوں کہ عبد المطلب کا خاندان تو ہمیشہ کا ٹال مٹول کرنے والا ہے ۔ اس وقت عمر فاروق آپ کے ساتھ تھے۔ یہودی کی زبان سے یہ جملہ سنتے ہی غضب ناک ہو گئے اور کہا: اگر رسول اللہ کا خیال نہ ہوتا تو میں تیری گردن مار دیتا ۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا: غفر اللہ لک یا ابا حفص ، نحن كنا الى غير هذا امنك احوج ، تأمرني بحسن القضاء وتامره بحسن الطلب اے ابو حفص ، خدا تھیں معاف کرے۔ ہم تم سے ایک اور سلوک کے زیادہ محتاج تھے تم مجھ سے بہتر ادائیگی کے لئے کہتے اور اس کو نصیحت کرتے کہ بہتر طریقے سے طلب کرو ۔ ۔۔۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues

Printed page