Al-Risala · April 1977 · page 17

جنگلات کی اہمیت

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۱۷

جنگلات کی اہمیت

اگر ہمالیہ کے تمام جنگلات تباہ کر دیے جائیں تو اس کا نتیجہ کیا ہو گا ؟ ہمالیہ سے نکلنے والے دریا جیسے گنگا اور جمنا دہلی اور ان تمام علاقوں کو زیر آب کریں گے جن میں یہ دریا گزرتے ہیں اور ہمالیائی ڈھلانوں میں بہتے ہوئے ان دھاروں سے جو ملبہ بہہ کر اکٹھا ہوگا اس سے دریاؤں کی سطح میں متواتر اضافہ ہوتا رہے گا اس طرح جنگلات ان دریاؤں میں ایسا نظم و ضبط قائم رکھتے ہیں جس سے پہاڑ اپنی صحیح پوزیشن میں قائم رہتے ہیں ، دریاؤں کے آس پاس سبزہ و نباتات کو تباہ کرنے سے ہمارے بہت سے اہم باندھوں میں کٹاؤ کی رفتار تیز ہوتی ہے۔

سیلابوں سے ہماری فصلوں کو ہر سال ایک ارب روپے کا نقصان پہنچتا ہے اس کے علاوہ زمین کے کٹاؤ سے جو بالواسطہ نقصان ہوتا ہے وہ بھی بھاری نقصان ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق اس سے زمین کی زرخیزی کو تقریباً ۷ ارب روپے کی مالیت کا نقصان پہنچتا ہے ۔ اس سے ہر سال 60ارب ٹن وزنی مٹی ادھر سے ادھر ہو جاتی ہے ۔

راجستھان میں جو کچھ بچی کچھی ہریالی رہ گئی ہے اگر اسے ختم کر دیا جائے تو دہلی پر اس ، کا تباہ کن اثر ہوگا۔ دہلی والے اگر ریت کے تلے نہ دبیں تو ریت سے آلودہ ہو جائیں گے بابل اور میسو پوٹیمیا میں ایسا ہو چکا ہے ۔ زراعت اور جنگلات ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ کیونکہ جنگلات زمین کی زرخیزی ، آپ پاشی اور سب سے بڑھ کر ایک قدرتی توازن کے ذریعہ اس کی زرعی پیداوار کو برقرار رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ جنگلات زراعت کو کیڑے مکوڑوں اور پودوں کی بیماریوں سے بچاتے ہیں۔ لگ بھگ 3 کروڑ 9 لاکھ قبائل کے لیے جنگلات گھر اور مسکن ہیں۔ ماحول کی آلودگی اور کثافت جو شہری علاقوں میں نسبتاً زیادہ ہوتی ہے، جنگلات میں درختوں کی موجودگی سے کم ہو جاتی ہے۔ دہلی کے تمام درخت اکھاڑ پھینکے جائیں تو موسم گرما میں دہلی کا کیا حال ہوگا۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک گرم بھٹی سے کم نہ ہوگی۔

ملک کی ترقی کے لیے جنگلات کی مسلمہ اہمیت ہونے کے باوجود جنگلات پر برائے نام ہی سرمایہ کاری کی گئی ہے جس کا تناسب صرف 0.6 فی صد ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ محکمہ جنگلات سے صرف 2 فی صد آمدنی ہوتی ہے۔ کاغذی طور پر ہندوستان کا 7.4 کروڑ ہیکٹر زمینی رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے جو مکمل زمینی رقبہ کا 23 فی صد حصہ ہے لیکن منافع بخش جنگلاتی رقبہ اس سے آدھا ہے۔ جاپان میں جنگلات کے فی کس رقبہ کی شرح 0.24 ہیکٹر فی کس، آسٹریلیا میں 0.9 ہیکٹر فی کس اور مجموعی طور پر پوری دنیا میں 1.04 ہیکٹر فی کس ہے جب کہ ہندوستان میں اس کا تناسب صرف 0.13 ہیکٹر فی کس ہے جنگلات کی موجودہ غیر اطمینان بخش آمدنی سے یہ صورت حال اور بھی ابتر ہو جاتی ہے۔

ماہرین کا اندازہ ہے کہ جنگلات کی پیداوار موجودہ پیداوار کے مقابلہ میں دس گنا بڑھائی جاسکتی ہے۔ جنگل قدرت کی ایک عظیم نعمت ہے مگر ہم نے ابھی اس سے بہت کم فائدہ حاصل کیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues

Printed page