جنگلات کی اہمیت
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۱۸
اور اس نے مستقبل کے لئے جدوجہد شروع کر دی رات کا وقت تھا بارش پورے عروج پر تھی ہوا کے تیز و تند جھکڑ چل رہے تھے، سردی سے جسم اکڑا جا رہا تھا۔ جھونپڑے کی ٹپکتی ہوئی چھت پر سے پانی کی بوندیں اس پر پھول کی مانند برس رہی تھیں۔ لیکن وہ ہر کیوں نہیں لگا لیتے، تا کہ نفع کما کر تم اپنی تعلیم کو جاری رکھ سکو اور آئندہ ڈاکٹر بن کر خلق کی خدمت کرو تا کہ کوئی بھی تمہارے ماں باپ اور بہن کی طرح اس ظالم موت کا شکار نہ ہونے پائے ! "
اب اس نے مستقبل کی جدوجہد شروع کر دی ایک ایسی جدوجہد جو ایک، دو، تین چار، پانچ، چھ، سات، آٹھ چیز سے بے خبر زمین پر پڑا اپنے ماضی کی یاد میں کھویا ہوا تھا۔ پچھلے تمام نقوش اس کی آنکھ کے سامنے گزرتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ وہ اپنے باپ کو دیکھ رہا تھا جسے نمونیا جیسے ہولناک مرض نے اپنے دامن میں سلایا تھا۔ وہ اپنی ماں کو دیکھ رہا تھا جسے اسی جھونپڑے میں ٹڈیان گڑ رگڑ کر دم توڑ دیا تھا وہ اپنی بہن کو دیکھ رہا تھا جو اسی جھونپڑے میں سردی سے اکڑ کر مرگئی تھی۔ اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب امڈ پڑا مگر ان آنسوؤں کی کوئی قیمت نہ تھی۔ اچانک اس کے ذہن نے کروٹ لی اور وہ ماضی کو بھول کر مستقبل کے بارے میں سوچنے لگا۔ کیا اس کا بھی یہی حشر ہوگا جو اس کے بدقسمت ماں باپ کا ہوا ہے۔ ؟ کیا یہ ظالم موت اسے بھی اپنی آغوش میں سلا لے گی ؟ نہیں نہیں ، میں موت سے پنجه کشی کروں گا اور اس سے اپنے ماں باپ اور بہن کا انتقام لوں گا۔ " اس کے ذہن نے پھر ایک غوطہ لگایا اور تعلیم کے سمندر میں جا پہنچا۔ اب اس نے اپنے آپ سے سوال کیا " جعفر تم کب تک جاہل رہ کر زندگی کے بقیہ دن کاٹو گے اس سے بہتر ہے کہ تم اسکول میں داخل ہو جاؤ! لیکن میں تو غریب لڑکا ہوں میں کیسے اسکول میں داخل ہو سکتا ہوں ؟ “ اس کے دل نے سرگوشی کی۔ اس کے ذہن نے فوراً جواب دیا ”تم اپنے رکھے ہوئے پیسوں سے خوانچہ نو، دس گیارہ، بارہ، تیرہ، چودہ، پندرہ ـــــــــ پورے پندرہ برس میں مکمل ہونے والی تھی ۔ یہ ایک پندرہ سالہ منصوبہ تھا۔ پندرہ سالوں کے بعد وہ دن آنے والا تھا جب وہ باقاعدہ ڈاکٹر بن کر مخلوق کی خدمت کرے اور دنیا سے اپنے لیے زندگی کا حق وصول کرسکے ۔ وہ شام سے رات گئے تک خوانچہ فروشی کرتا اور دن کو اسکول میں پڑھتا۔ اس طرح اس نے میٹرک کیا۔ وہ میٹرک میں فرسٹ آیا۔ سارے اسکول میں اس کی فرسٹ پوزیشن تھی۔ اب اس کو اسکالرشپ ملنے لگا۔ اس نے خوانچہ فروشی چھوڑ دی اور اپنے وقت کو اور زیادہ تعلیم میں صرف کرنے لگا وہ اپنی محنت کی بدولت ہر سال اول آتا رہا۔ یہاں تک کہ اس نے ڈاکٹری کا امتحان امتیاز کے ساتھ پاس کر لیا۔
اب وہ ایک ڈاکٹر تھا۔ شہر کا سب سے زیادہ کامیاب ڈاکٹر ۔ "مجھے ڈاکٹر کس چیز نے بنایا۔ " کبھی کبھی وہ اپنے دل میں سوچتا ۔ "صرف ایک چیز نے۔ میرے مشکل حالات نے مجھے ڈاکٹر بنایا ہے۔ مجھ پر حالات کا جو سخت دباؤ پڑا اگر وہ نہ ہوتا تو شاید میرے اندر وہ زبردست محرک اور قوت عمل پیدا نہ ہوتی جسنے مجھ کو اتنی محنت اور لگن پر اکسایا اور بالآخر ڈاکٹر بنا کر چھوڑا۔ اسنے اپنے دروازہ پر تختی لگادی جس پر لکھا ہوا تھا۔ مشکلات سے نہ گھبرائیے۔ مشکلات آپکے لئے ترقی کا زینہ ہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues