Al-Risala · April 1977 · page 14

جنگلات کی اہمیت

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۱۴

طرابلس (لیبیا) کی مسلم مسیحی کانفرنس (فروری ۱۹۷۶ء) میں جو لوگ شریک ہوئے، ان میں ایک یوسف مظفر الدین بھی تھے۔ یہ شمالی امریکہ کے باشندے ہیں۔ وہ ایک عیسائی خاندان میں پیدا ہوئے‘ اور ۱۹۶۲ میں اسلام قبول کر لیا۔

انھوں نے ایک ملاقات میں بتایا کہ میرے جیسے تقریباً ایک ملین امریکی ہیں جو عیسائیت سے نکل کر اسلام میں داخل ہو چکے ہیں۔ آج امریکہ کو، اپنی ساری ترقیوں کے باوجود بے شمار قسم کے سماجی اور خاندانی مسائل درپیش ہیں۔ ہر امریکی ان کے بارے میں سوچتا ہے۔ مگر اپنے آبائی مذہب میں اس کو ان مسائل کا حل نظر نہیں آتا۔ اس لئے وہ یا تو غیر مطمئن رہتا ہے یا عیسائیت کو چھوڑ کر دوسرے مذہب کو اختیار کرلیتا ہے انھوں نے بتایا کہ امریکی معاشرہ اور مسیحی چرچ اس کی وجہ امریکی معاشرہ کی بے اطمینانی اور مسیحی چرچ کا اس کا جواب پیش کرنے سے قاصر رہنا ہے۔ ان حالات نے امریکی باشندوں میں دینِ فطرت کی تبلیغ واشاعت کے کام کے لئے وسیع میدان کھول دیا ہے۔ مگر سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ ہمارے پاس اسلامی لٹریچر نہیں۔ آج کا انسان جس اسلوب اور جس نہج پر کسی چیز کے مطالعہ کا عادی ہے، اس زبان اور اسلوب میں اسلام پر کتا بیں نہیں ملتیں۔

شمالی امریکہ میں 1971ء میں ایک اسلامی تنظیم قائم ہوئی ہے اس کا خاص مقصد امریکہ میں اسلام کی تبلیغ واشاعت ہے۔ یوسف مظفر الدین اس تنظیم کے صدر ہیں۔ اس تنظیم کو اپنے کام کے سلسلے میں حکومت کی طرف سے طرح طرح کی مشکلات پیش آرہی ہیں۔ حتی کہ ان کے بیان کے مطابق، بہت سے نومسلم امریکی مختلف الزامات کے تحت جیلوں میں بند کر دیئے گئے ہیں۔ اس طرح نہ صرف ان کو قبولِ اسلام کی سزا دی جارہی ہے بلکہ ان کو اس امر سے بھی روک دیا گیا ہے کہ وہ ملک میں اپنی دعوتی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ انھوں نے کہا ہماری کوشش یہ ہے کہ امریکہ میں اسلامی دعوت کی تحریک اتنی طاقتور ہو جائے کہ وہ اس قسم کی مشکلوں سے نمٹ سکے۔ پھر بھی اگر ہم ناکام رہے تو ہم دوسرے اسلامی ملکوں سے رابطہ قائم کریں گے اور اس سلسلہ میں ان سے مدد حاصل کریں وہ امریکہ سے ایک اسلامی اور دعوتی ماہنامہ بھی شائع کر رہے ہیں۔ ہورہیں ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues

Printed page