Al-Risala · April 1977 · page 15

یہ عذر صحیح نہیں

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۱۵

یہ عذر صحیح نہیں

"مسلمان خود ہی اسلام کو چھوڑے ہوئے ہیں پھر وہ کس منہ سے دوسروں کو اسلام کا پیغام دے سکتے ہیں"۔ اس اعتراض کا دین وشریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جہاں تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ ہے آپ نے عرب میں کام شروع کیا تو ایک طرف آپ تھے، دوسری طرف شرک وکفر میں مبتلا لوگ۔ مگر دوسرے انبیاء بگڑے ہوئے مسلمانوں کے درمیان مبعوث ہوئے ۔ اس معاملہ میں انھوں نے جو طریقہ اختیار کیا وہ ہمارے لئے اسی طرح اسوہ ہے جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اسوہ ہے کیونکہ قرآن میں صراحتہ حکم دیا گیا ہے: فبهداهم اقتده (ان کے طریقہ کی پیروی کرو)

یہاں ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مثال پیش کریں گے۔ وہ مصر میں بنی اسرائیل کے درمیان مبعوث ہوئے تھے۔ امت محمدی کے وجود میں آنے سے پہلے بنی اسرائیل اسی طرح "مسلمان" تھے جس طرح اب اصطلا حاً آپ کی امت کو مسلمان کہا جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ بنی اسرائیل اس زمانہ میں اس مقام دعوت پر تھے جس پر آپ کی بعثت کے بعد امت مسلمہ کو فائز کیا گیا ہے۔ جس خصوصیت کے لئے امت مسلمہ کو "خیر امت" کہا گیا ہے اسی خصوصیت کے لئے ان کے حق میں فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ (بقرہ - ۴۷) کے الفاظ آتے ہیں۔ یہ ثابت ہے کہ حضرت موسیٰ کی بعثت کے وقت بنی اسرائیل میں وہ ساری کمیاں پوری طرح موجود تھیں جو آج مسلمانوں میں نظر آتی ہیں، مگر اس کے باوجود غیر مسلموں پر تبلیغ حق کے کام کو موخر نہیں کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف یہ حکم دیا کہ بنی اسرائیل کی دینی و اخلاقی اصلاح کی مہم چلائی جائے۔ (یونس - ۸۷) دوسری طرف اسی کے ساتھ انھیں یہ حکم بھی دیا گیا کہ وہ مصر کی قبطی قوم کو خدا کا پیغام پہنچائیں: اِذْهَبْ إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى فرعون کے پاس جا کیونکہ وہ سرکش ہو گیا ہے یہ نہیں کہا گیا کہ تم چونکہ خود اسلام سے دور ہو اس لئے فی الحال صرف دینی اصلاح میں مشغول رہو بلکہ اپنی داخلی اصلاح کے ساتھ بیک وقت غیر مسلم قوم کو خطاب کرنے پر بھی انھیں مامور کیا گیا۔

"پہلے مسلمانوں کو تیار کرو" کے ذہن کے تحت ہمارے یہاں بے شمار کام ہو رہے ہیں، حتیٰ کہ بعض ایسے یسعیاہ نبی کی زبان سے بائبل میں کہا گیا ہے : " خداوند فرماتا ہے کہ تم میرے گواہ ہو اور میرے خادم بھی جسے میں نے برگزیدہ کیا تا کہ تم جانو اور مجھ پر ایمان لاؤ ۔ میرے سوا کوئی بچانے والا نہیں۔ سو تم میرے گواہ ہو “ یسعیاہ ۴۳ : ۱۲ - ۱۰ گویا اہل ایمان کی بیک وقت دو ذمہ داریاں ہیں۔ ایک یہ کہ وہ خود خدا کے خادم اور فرماں بردار بنیں ۔ دوسرے یہ کہ وہ قوموں کے اوپر خدا کے دین کے گواہ ہوں تاکہ ، بائبل کے الفاظ میں ، جب تمام قومیں فراہم کی جائیں اور سب امتیں جمع ہوں تو یہ لوگ خدا کی طرف سے سب کے اوپر گواہ بن کر کھڑے ہو سکیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues

Printed page