الفاظ جو فضا میں گم ہو گئے
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۲۱
کام بھی ہیں جس کے بانی اول کا انتقال ۱۸۹۸ میں ہوا تھا۔ اس کے بعد یہ سلسلہ ٹوٹا نہیں بلکہ ایک دن کے ناغہ کے بغیر مسلسل آج تک جاری ہے۔ اس طرح گویا مسلمانوں کو تیار کرنے کی صرف ایک جماعت وہ ہے جس کی سرگرمیوں پر پوری ایک صدی گزر چکی ہے۔ مگر آج جب کہ اس کے حامیوں کے دعوے کے مطابق یہ تحریک بین اقوامی بن چکی ہے منقسم ہندوستان کا کوئی ایک گاؤں یا محلہ بھی ایسا وجود میں نہ آسکا جس کے متعلق یہ کہا جاسکتا ہو کہ وہ ، مذکورہ معیار کے مطابق اس قابل ہو گیا ہے کہ دوسروں کو اسلام کی دعوت دے سکے۔
ہمارے اس ملک میں روزانہ ایک لاکھ سے زیادہ آدمی مرجاتے ہیں۔ ساری دنیا کے اعتبار سے دیکھا جائے تو روزانہ مرنے والوں کی تعداد تقریباً دس لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ کیسی عجیب بات ہے کہ ہر روز دس لاکھ آدمی دین حق سے بے خبری کی حالت میں مررہے ہوں اور ہم پوری پوری صدی صرف اس عذر میں گزار دیں کہ ابھی ہم مسلمانوں کو تیار کر رہے ہیں۔ اور یہ جواب اس نبی کے امتیوں کا ہو جس کا کہنا یہ تھا کہ لوگ پتنگوں کی طرح آگ میں گر رہے ہیں اور میں ان کو اپنی ساری طاقت سے کھینچ کر نکالنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ کسی کے مخارج غلط ہوں یا سورتیں یاد نہ ہوں تو ہر شخص جانتا ہے کہ نماز اس سے ساقط نہیں ہوتی۔ حتیٰ کے سامنے دعوتی فریضہ ادا کرنے کا ہو۔ اس کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ نماز کی اہمیت ہم کو معلوم ہے۔ مگر شہادتِ حق اور دعوت الی اللہ کی اہمیت کی ابھی تک ہم کو خبر نہیں۔ ”اولیں پرسش نماز بود“ کا سبق ہم کو یاد ہے۔ مگر اس حقیقت کو ہم بھول گئے ہیں کہ خدا کے بے خبر بندوں کو خدا کے دین سے باخبر کرنا امتِ محمدی پر اسی طرح فرض ہے جس طرح ایک شخص کے لئے روزانہ پانچ وقت کی نماز پڑھنا۔
الفاظ جو فضا میں گم ہو گئے
مولانا محمد علی نومبر ۱۹۳۰ء میں لندن کی گول میز کانفرنس میں شریک ہوئے تھے۔ یہاں انہوں نے جو طوفان خیز تقریر کی، اس کے چند الفاظ یہ تھے: ”آج میں جس مقصد کے لئے یہاں آیا ہوں، وہ یہ ہے کہ میں اپنے ملک کو ایسی حالت میں واپس جاؤں جب کہ آزادی کا پروانہ میرے ہاتھ میں ہو۔ میں ایک غلام ملک کو واپس نہیں جاؤں گا۔ اگر آپ مجھے ہندوستان کی آزادی نہیں دیں گے تو پھر آپ کو یہاں مجھے قبر کے لئے جگہ دینی پڑے گی۔ ۔۔
ہمارے پاس ۳۲ کروڑ آدمی ہیں۔ جب وہ قحط اور پلیگ سے لاکھوں کی تعداد میں مرنا کہ اگر اس کو کوئی غلط عادت لگی ہوئی ہو تب بھی کوئی بھی یہ فتویٰ نہیں دے گا کہ تمھاری عادت صحیح ہو جائے، اس وقت نماز پڑھنا۔ مگر شرعی ذمہ داریوں کا یہی اصول ہم اس وقت بھول جاتے ہیں جب کہ معاملہ دوسری قوموں جاتے ہیں تو یقیناً وہ برطانوی لونی ہے۔ علی جان دے سکتے ہیں “ آج ان الفاظ کو تلاش کیا جائے تو وہ تاریخ کی الماری کے سوا اور کہیں نہیں ملیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues