Al-Risala · April 1977 · page 22

الفاظ جو فضا میں گم ہو گئے

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۲۲

محمود پاشا بارودی (۱۳۲۲ - ۱۲۵۵)ھ قاہرہ میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد د نقلہ دبر بر کے ناظم تھے ۔ وہ عربی، ترکی، فارسی اور انگریزی زبانیں جانتے تھے۔ انھیں دو چیزوں کا ذوق تھا۔ سیاست اور شاعری ۔ ان کا اپنا دیوان دو جلدوں میں مصر سے شائع ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ایک کتاب " مختارات البارودی “ ہے۔ اس کتاب کے چار حصے ہیں اور اس میں عہد عباسی کے ۳۰ شاعروں کے کلام کا انتخاب ہے ۔

مصر میں وہ مختلف سرکاری عہدوں پر فائز رہے۔ میجر جنرل کی حیثیت سے انھیں فرانس اور انگلستان کے سفر کا بھی موقع ملا ۔ مصر میں جب انگریزوں کے خلاف بغاو ت ہوئی تو اس میں ان کا نام بھی تھا۔ لوگوں میں عام چرچا یہ تھا کہ بارودی اس انقلابی تحریک کے قائد ہیں۔ تاہم یہ بغاوت وادی نیل پر انگریزوں کے قبضہ کے بعد ختم ہوگئی ۔ مگر حکومت نے باغیوں کی پکڑ دھکڑ شروع کی تو بارودی بھی اس میں گرفتار ہوئے ۔ ان کے ناموافق حالات نے ان کے لئے ایک نیا موافق امکان پیدا کر دیا مادہ جب "برباد" کیا جاتا ہے تو وہ انرجی بن جاتا ہے جو مادہ کی زیادہ وسیع اور طاقت ور صورت ہے۔ یہی خدا کی اس کائنات کا عام قانون ہے۔

یہاں ہر محرومی کے اندر ہمیشہ ایک نئی یافت کا امکان چھپا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ رگیر سرکشانی کو بار بار روکی.ی اس کافر فرمانروار ہے ان کو جلا وطن کرکے جزیرہ سراندیپ میں بھیج دیاگیا ۔ وہاں وہ سترہ سال سے کچھ زیادہ عرصہ تک قید ر ہے ۔ پاک کی صفت خاص جس کا ظہور عالم مادی میں ہوا ہے، اس کا وعدہ زیادہ ترے خدیو عباس ثانی کی سفارش پر، ۱۳۲۸ھ میں ان کو معافی دی گئی۔ وہ مصر واپس آگئے۔ اس کے بعد وہ صرف پانچ سال تک زندہ رہ سکے۔ آخر میں ان کی بینائی جاتی رہی تھی ۔

کہا جاتا ہے کہ بارودی کو عربی شاعری میں امرؤالقیس اور بشار کا درجہ حاصل تھا۔ انھوں نے موجودہ دور میں عربی شاعری کے احیاء کا کام کیا۔ پیمانہ پر اہل ایمان کے لئے کیا گیا ہے۔ ان کے لئے ان کا رب ناموافق حالات میں بھی موافق پہلو پیدا کر دیتا ہے، بشرطیکہ وہ فی الواقع خدا کے ہو چکے ہوں۔ ان کی منصوبہ بندی خالص خدائی مشن کے لئے ہو نہ کہ اپنے آپ کو نمایاں کرنے کے لئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues

Printed page