الفاظ جو فضا میں گم ہو گئے
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۲۳
مکہ میں جب مسلمانوں کے حالات سخت ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے کہا: "تم لوگ حبش چلے جاؤ۔ وہاں کا بادشاہ نجاشی عیسائی ہے اور نیک نفس ہے۔ وہ تم لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا۔ " چنانچہ ۵۱ھ میں پندرہ آدمی جدہ پہنچے اور کشتیوں پر سوار ہو کر حبش چلے گئے، دوسری بار ،۶۱میں ایک سو مسلمان حبش گئے۔
بظاہر یہ ایک ناپسندیدہ واقعہ تھا۔ مگر اس کے اندر اللہ تعالی نے ایک خیر کی صورت پیدا کر دی۔ مکّی مسلمانوں کا حبش پہنچنا وہاں اسلام کو موضوع بحث بنانے کا سبب بن گیا۔ پیغمبر اسلام کی بعثت اور آپ کی دعوت کی خبریں حبش میں پھیلنے لگیں۔ قریش کا ایک مخالفانہ وفد حبش پہنچنے کے نتیجہ میں حضرت جعفر کو موقع ملا کہ دربار شاہی میں اسلام کی دعوت پر مفصل تقریر کر سکیں ۔ اس طرح کے واقعات کا نتیجہ یہ ہوا کہ حبش سے ۲۰ عیسائیوں کا ایک وفد مکہ آیا تا کہ اصل معاملہ کی تحقیق کر سکے۔ جب یہ لوگ مکہ پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام میں تھے۔ وہ وہاں گئے اور آپ سے مل کر مختلف سوالات کئے اور پوچھا کہ آپ کیا تعلیم لائے ہیں۔ آپ نے بتایا کہ خدا نے میرے اوپر اپنا کلام اتارا ہے اور اور قرآن کی کچھ آیات پڑھ کر سنائیں۔ یہ لوگ چونکہ تعصب سے خالی تھے ، قرآن سن کر بہت متاثر ہوئے ۔ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ انھوں نے تصدیق کی کہ بلاشبہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ اور اسی وقت اسلام قبول کر لیا۔ جس وقت یہ واقعہ ہو رہا تھا ، قریش کے بہت سے لوگ وہاں جمع تھے اور سارا ماجرا دیکھ رہے تھے۔ انھیں حیرت بھی تھی اور غصہ بھی آرہا تھا کہ جس دین کو انھوں نے رد کر دیا ہے، اس کو باہر کے لوگ آ کر اپنا رہے ہیں۔ حبش کے یہ لوگ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھے تو ابو جہل اپنے کچھ ساتھیوں کو لے کر ان سے راستہ میں ملا۔ اس نے ان لوگوں کو ملامت کرتے ہوئے کہا: " ہمارا خیال ہے کہ تم سے زیادہ احمق قافلہ یہاں کبھی نہیں آیا۔ تمھارے ہم مذہب لوگوں نے تم کو اس لئے یہاں بھیجا تھا کہ تم اس شخص کے حالات کی تحقیق کرو اور واپس جا کر اپنے ساتھیوں کو بتاؤ۔ مگر ابھی تم اس سے ملے ہی تھے کہ اپنے دین کو چھوڑ بیٹھے۔ "
جیسا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے یہ بنی اسرائیل کے علماء تھے (شعراء۔ ۱۹۷) انھوں نے ابو جہل وغیرہ سے کوئی بحث نہیں کی۔ بلکہ صرف یہ جواب دیا: "سلام ہے بھائیو تم کو، ہم تمھارے ساتھ جہالت نہیں کر سکتے۔ ہمیں ہمارے طریقے پر چلنے دو اور تم اپنے طریقے پر چلتے رہو۔ ہم اپنے آپ کو جان بوجھ کر بھلائی سے محروم نہیں رکھ سکتے۔ " (ابن ہشام) انھیں لوگوں کے بارے میں قرآن میں آیا ہے : "جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی تھی وہ قرآن پر ایمان لاتے ہیں اور جب ان کو سنا دیا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں : ہم اس پر ایمان لائے، یہ بلاشبہ خدا کی طرف سے ہے۔ ہم تو پہلے ہی سے اس کو ماننے والے تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو دہرا اجر دیا جائے گا، ان کے صبر کے بدلے۔ وہ برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں اور جو رزق ہم نے انھیں دیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ انھوں نے جب لغوبات سنی تو یہ کہہ کر اس سے الگ ہوگئے: ہمارے اعمال ہمارے ساتھ اور تمھارے اعمال تمھارے ساتھ، تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ " قصص ۵۵-۵۲
‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues