الفاظ جو فضا میں گم ہو گئے
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۲۵
مسلمانوں کا علمی و ذہنی انحطاط بارہویں یا تیرھویں صدی سے شروع ہوا اور سترھویں صدی میں ہم کشف الظنون کے مولف اور قدیم طرز کے عالم حاجی خلیفہ (۱۷۵۰) کو علم کلام اور علوم عقلی کے عام انحطاط پر ماتم کناں پاتے ہیں۔ اپنی کتاب میزان الحق في اختیار الحق میں یہ کہتے ہوئے کہ امام غزالی و امام فخر الدین رازی، قاضی بیضاوی وشیرازی و قطب الدین رازی و سید شریف جرجانی اور جلال الدین دوانی اور ان سب کے تلامذہ اپنے عہد کے جید عالم اور مانے ہوئے صاحب و فکر و نظر تھے۔ لیکن انھوں نے کسی لمحہ بھی یہ گوارہ نہیں کیا کہ وہ علم و فن کی کسی ایک ہی شاخ کے ہو کر رہ جائیں، حاجی خلیفہ نے لکھا ہے۔
”لیکن بہت سے عجمی لوگ اس بنیاد پر کہ یہ علوم عقلی کبھی ممنوع قرار دے گئے تھے چٹانوں کی مانند جامد رہے اور قدماء کی اندھی تقلید کے قیدی بن گئے بغیر سوچے ہوئے کہ حقیقت حال کیا ہے انھوں نے نئے علوم کی طرف سے نہ صرف یہ کہ آنکھیں پھیر لیں بلکہ انھیں پورے طور پر رد کر دیا۔ انھوں نے اپنے آپ کو عالم سمجھا حالانکہ وہ نرے جاہل تھے۔ اس کے شوقین کہ اس چیز کا مذاق اڑائیں جسے وہ فلسفیانہ علوم تصور کرتے تھے حالانکہ انھیں اس کی خبر نہ تھی کہ زمین کیا چیز ہے اور آسمان کیا ہے ۔ اولم ينظروا في ملكوت السموات والارض۔ قرآن کریم کی اس ہدایت کا ان پر کوئی اثر نہ تھا۔ ان کا خیال تھا کہ کائنات اور اس فضائے بسیط کو دیکھنے کے معنی یہ ہیں کہ انھیں گائے کی مانند گھورا جائے ۔“ جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے ۱۹۸۰ء پروفیسر ضیاء الحسن فاروقی وہ سیاست میں الجھ گئے، حالانکہ ضرورت یہ تھی کہ اسلام کی فطری قوتوں کو بروئے کار لانے کی جدوجہد کی جائے سے لے کر جب صلحنامہ برلن پر دستخط ہوئے اور جس کے سبب سلطنت عثمانیہ کے انتشار وانحطاط میں تیزی پیدا ہوئی۔ خاص طور سے 1911ء سے جب طرابلس پر اٹلی کا حملہ ہوا۔ یونیورسٹیوں اور کالجوں کے تعلیم یافتہ مسلم دانشور اور مدرسوں کے پڑھے ہوئے علماء سب سیاست کے جال میں ایسے الجھے کہ ملت اسلامیہ ہند کی ذہنی و روحانی ضروریات کی طرف کسی نے توجہ نہیں کی۔ اس سلسلے میں اولین اہمیت کی ضرورت یہ تھی کہ بغیر کسی انحراف تحریف کے اور دین اسلام کے اصولوں کو مستحکم رکھتے ہوئے انھیں کی بنیاد پر روایت اور عہد جدید کے قابلِ قبول تقاضوں کے مابین ربط اور مطابقت پیدا کی جاتی۔ تہذیب اسلام ایک زندہ اور جاندار تہذیب ہے، اس نے زمانے کے بے شمار نشیب و فراز دیکھے ہیں، نہ معلوم کتنی آزمائشوں سے یہ گزری ہے۔ پھر بھی زندہ اور باقی ہے۔ ضرورت ہے کہ اسکی فطری قوت متحرکہ کو بروئے کار لایا جائے۔ مسلمانوں کو اس کی شدید ضرورت ہے۔ دنیا بھی اس کی طالب اور منتظر ہے۔ (تلخیص)
‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues