Al-Risala · April 1977 · page 26

الفاظ جو فضا میں گم ہو گئے

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۲۶

انکار کرنے والوں کی نفسیات ہمیشہ ایک رہی ہے سچائی اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔

وہ فطرت کی آواز ہے۔ علم وعقل کے سارے دلائل اس کے حق میں جاتے ہیں۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ بے آمیز سچائی سامنے آئے اور اس کے خلاف کوئی مضبوط دلیل قائم کی جاسکے۔ اس کے باوجود ساری تاریخ میں یہ ہوتا رہا کہ جو خدا کا بندہ بھی حق کی دعوت لے کر اٹھا، لوگوں نے اس کا انکار کیا :

افسوس لوگوں پر، جب بھی ان کے پاس کوئی رسول آیا وہ اس کا استہزاء کرتے رہے ۔

اس انکار حق کی وجہ کیا ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ حق کا اعلان، سنت اللہ کے مطابق، ہمیشہ کسی " انسان " کی زبان سے ہوتا ہے، فرشتوں کی زبان سے یا پہاڑوں اور سمندروں کے ذریعے اس کا اعلان نہیں کرایا جاتا۔ اب چوں کہ عام لوگ کسی بات کو اس کی اندرونی قیمت کے لحاظ سے نہیں دیکھ پاتے بلکہ اس سے متاثر ہوتے ہیں کہ بات کو کہنے والا کون ہے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ہمارے ہی جیسا ایک آدمی حق کا حامل کس طرح ہوسکتا ہے۔ ہمارے ہی جیسا ایک گوشت پوست کا مجموعہ خدا کی اس نعمت سے بہرہ مند کیونکر ہوسکتا ہے کہ اس کو خدا کی طرف سے سچائی کی معرفت حاصل ہو جائے اور اس کو اس مقام پر کھڑا کیا جائے کہ وہ دوسروں کو حق سے باخبر کرے ۔

قرآن میں ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو حق کی دعوت دی تو ان کو قوم کی طرف سے یہ یہ جواب ملا :

يَٰهُودُ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَّ مَا نَحۡنُ بِتَارِكِيۡ اٰلِهَتِنَا عَنۡ قَوْلِكَ وَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤْمِنِيْنَ ۔ ھود۔ ۵۳ اے ہود تم کوئی دلیل لے کر نہیں آئے ہو اور ہم صرف تمھارے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں اور نہ تمھاری بات پر یقین کرنے والے ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں کو حق کا پیغام دیا تو انھوں نے یہ کہہ کر ماننے سے انکار کر دیا : ان ھذا الا قول البشر مدثر۔ ۲۵ یہ تو صرف آدمی کا قول ہے۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دعوت حق کا انکار کرنے کی نفسیات ہمیشہ کیا رہی ہے : یہ تو ایک آدمی کی بات ہے جو فلاں شخص کا لڑکا ہے۔ ذاتی حوصلہ مندی نے اس کو اس قسم کے کام کے لئے ابھار دیا ہے (لتكون لكما الكبرياء فی الارض) اس کو یہ جرأت اس لئے ہو رہی ہے کہ کچھ لوگ اتفاق سے اس کو مدد کرنے والے مل گئے ہیں (دَاعَانِہ علیہ قوم آخرون) وغیرہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آج آپ کے مخالفین بھی عزت و احترام کے ساتھ لیتے ہیں کیونکہ آج آپ کے نام کے گرد چودہ سو برس کی عظمتیں قائم ہو چکی ہیں۔ مگر آپ کی زندگی میں ، جب کہ یہ تاریخ آپ کے گرد جمع نہیں ہوئی تھی ، مکہ کے لوگ آپ کو ” ابن ابی کبشہ “ کہتے تھے۔ جس کا مطلب ہوتا تھا : فلاں دیہاتی کا لڑکا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues

Printed page