Al-Risala · April 1977 · page 27

درخواست کے بغیر

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۲۷

نبت کے ابتدائی سالوں کا واقعہ ہے قریش کے سرداروں نے نبی اللہ علیہ وسلم سے کہا اگر تمھارا پیغام حق ہے اور تم خدا کے رسول ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کرواؤ اور ان میں قصی بن کلاب بھی ضرور ہوں اگر قصی بن کلاب نے زندہ ہو کر کہہ دیا کہ وہی بات حق ہے جو تم کہتے ہو تو ہم ضرور مان لیں گے۔ اس مطالبہ کی نفسیات یہی تھی کہ اس وقت قریش کی روایات کے مطابق قصی بن کلاب کے حق میں تاریخی عظمتیں قائم ہو چکی تھیں جبکہ "محمد بن عبد اللہ" ابھی ایک نوخیز شخص تھے ۔ انھیں مکہ کے معاشرہ میں اس قسم کی عظمت کا مقام ابھی حاصل نہیں ہوا تھا۔ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ ”ظاہر“ کو دیکھ کر رائے قائم کرتا ہے، کسی حقیقت کو وہ اس وقت تک تسلیم نہیں کرتا جب تک اس کے گرد ظاہری لوازم جمع نہ ہو چکے ہوں۔ حالاں کہ اصلی یافت یہ ہے کہ آدمی حقیقت کو اس وقت دیکھ لے جب کہ وہ معری شکل میں ہوتی ہے۔ جب اس کے گرد و زخارف کا انبار اکٹھا ہو جائے، اس وقت کا دیکھنا معتبر نہیں ۔ اس وقت تو ایک اندھا بھی ہاتھوں سے ٹٹول کر حقیقت کو پالیتا ہے۔

درخواست کے بغیر

ڈاکٹر پی۔ ایل۔ بھٹنا گر (1914)

نے 1933ء میں ایم ایس سی میں ٹاپ کیا تو گھر والوں کی بہترین تمنا یہ تھی کہ وہ آئی سی ایس کے مقابلہ میں بیٹھیں ۔ اس وقت ممتاز طالب علموں کے کے لئے سب سے زیادہ پرکشش چیز یہی تھی ۔ مگر ڈاکٹر بھٹنا گر کے علمی شوق نے انھیں مجبور کیا کہ وہ آئی سی ایس افسر بننے کے بجائے ٹیچر اور اسکالر بننے کو ترجیح دیں ۔

1950ء کا واقعہ ہے پروفیسر ہمایوں کبیر وزارت تعلیم میں سکریٹری تھے ۔ ان کو ایک ایسے قابل ریاضی داں کی تلاش تھی جس کو انڈین انسٹی آف سائنس بنگلور میں اپلائیڈ میتھمیٹکس کے شعبہ کا صدر بنایا جاسکے ۔ انٹرویو کے لئے سلکشن کمیٹی مقرر ہوئی جس کے صدر خود ہمایوں کبیر تھے ۔ کمیٹی کو درخواست دہندگان میں کوئی بھی شخص عہدہ کے لائق نہ ملا۔

پروفیسر ہمایوں کبیر نے پروفیسر ڈی۔ ایس۔ کوٹھاری سے کہا جو کہ سلیکشن کمیٹی کے ممبر بھی تھے: "کیا ہمارے ملک میں کوئی ایسا شخص نہیں جو اس عہدہ پر بیٹھنے کے لائق ہو؟ " کوٹھاری نے کہا: "کم از کم ایک شخص تو مجھے معلوم ہے، اور وہ ڈاکٹر بھٹنا گر ہیں"۔ پروفیسر ہمایوں کبیر نے تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے فوراً ڈاکٹر بھٹنا گر کے نام اپائنٹمنٹ لیٹر بھیج دیا، اگرچہ موصوف نے اس عہدہ کے لئے کوئی درخواست نہیں دی تھی۔ ڈاکٹر بھٹنا گر نے ٹیچر کے مقابلہ میں صدر بننے کی پیشکش کو بجر قبول کیا تھا۔ تاہم وہ ان کے لئے مزید عہدوں کا زینہ بنا۔ وائس چانسلر راجستھان یونیورسٹی اور جے پور یونیورسٹی، ممبر یونین پبلک سروس کمیشن - ۱۹۴۸ میں ان کو پدم بھوشن کا خطاب دیا گیا۔ یہ تقریب ڈاکٹر ذاکر حسین کے ہاتھوں انجام پائی تھی جو اس وقت صدر جمہوریہ ہند تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues

Printed page