درخواست کے بغیر
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۲۸
ترکی مشرق و مغرب کا سنگم ہے اس لیے مغربی تہذیب سے تصادم کا مسئلہ سب سے پہلے یہیں پیش جدید تاریخ کا ایک صفحہ آیا۔ مگر اس کے جواب میں کیا ہوا۔ ایک طرف قدیم علماء کا گروہ تھا جو مغرب کی طرف سے آنے والی ہر چیز کا اس درجہ مخالف تھا کہ سلطان سلیم ثالث (۱۸۰۴ء-۱۷۸۹ء) اور اس کے جانشین سلطان محمود (۱۸۳۹ء-۱۸۰۸ء) کی نئی فوجی تنظیمات اور ان جدید اصلاحات تک کی مخالفت کی جو انھوں نے ترکی کو عسکری اور علمی لحاظ سے یورپ کی ابھرتی ہوئی طاقتوں کے دوش بدوش لے چلنے کے لیے نافذ کی تھیں ۔
دوسری طرف ترکی کی وہ نئی نسل تھی جو پیرس اور برلن اور لندن کی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر کے آئی تھی، وہ ترکی کو مغرب کے رنگ میں رنگ دینا چاہتی تھی ۔ ان کی انتہا پسندی کا عالم یہ تھا کہ انھوں نے مغربی تقلید کے جواز کے لیے ایک پورا فلسفہ بنا ڈالا۔ ضیاء گوک الپ نے کہا:
" مغربی تہذیب در حقیقت بحر روم کی تہذیب کا امتداد ہے، اس تہذیب (جس کو ہم بحیرہ روم کے منطقہ کی تہذیب کہتے ہیں) کے بانی سماری، سیتھی فنیقی رعاة، ترکی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔
تاریخ میں قدیم زمانوں سے پہلے ایک طورانی دور کا وجود ملتا ہے، اس لیے کہ وسط ایشیا کے قدیم باشندے ہمارے اجداد تھے۔ اس کے بعد مسلمان ترکوں نے اس تہذیب کو ترقی دی اور اس کو یورپ تک پہنچایا، پھر مغربی و مشرقی سلطنت روما کے خاتمہ کے بعد ترکوں نے یورپ کی تاریخ میں انقلاب پیدا کیا، اور اسی بنیاد پر ہم مغربی تہذیب کا جزو ہیں اور ہمارا اس میں حصہ ہے“۔
ان کا منتہائے فکر یہ تھا کہ ”وہ اپنے دماغ سے کام لے کر اپنے کو مغرب کی روشن اور بلند پایہ تہذیب میں نصب کر لیں“ (عوفان اور گا، اتا ترک، ۲۹۷) کمال آتاترک (۱۹۳۸ء - ۱۸۸۱ء) جب ۱۹۲۳ء میں ترک جمہوریہ کے پہلے صدر مقرر ہوئے تو ان کے نزدیک جو سب سے اہم کام تھا وہ یہ کہ ترکوں کو مغرب کا لباس پہنا دیں۔ انھوں نے پردہ کو خلاف قانون قرار دیا۔ عربی حروف کی جگہ لاطینی حروف جاری کیے۔ عربی میں اذان ممنوع ہوگئی۔ ہیٹ کا استعمال لازمی قرار دیا گیا۔ حتیٰ کہ جب ایک خوں ریز انقلاب کے بعد ہیٹ کی جنگ جیت لی گئی تو مصطفیٰ کمال نے مکہ کی موتمر اسلامی (۱۹۲۷) میں شرکت کے لیے ترک پارلیمنٹ کے ایک ممبر ادیب ثروت کو اس حال میں روانہ کیا کہ وہ اس کے واحد مندوب تھے جو اپنے سر پر مغربی ہیٹ رکھے ہوئے تھے۔ یہ گویا ترکی کی فتح عظیم کا اعلان تھا۔
یہی مثال ہر مسلم ملک میں پیش آئی ہے۔ ان میں ڈگری کا فرق تو ہو سکتا ہے مگر نوعیت کا کوئی فرق نہیں۔ ہر جگہ یہی ہوا کہ قدیم مذہبی طبقہ نے مغرب سے نفرت او اجتناب میں زندگی کا راز بتایا اور جدید تعلیم یافتہ نے مغرب کی تقلید سے یہ امید کی کہ وہ دوبارہ بام عروج پر پہنچ جائیں گے۔ مگر یہ مثال کہیں نظر نہیں آتی کہ کچھ لوگ شدت سے اس پہلو کی طرف قوم کو متوجہ کر رہے ہوں کہ قوت و طاقت کے اس راز کو معلوم کرو جس سے مسلح ہو کر مغرب تمہارے اوپر اور دنیا کے اوپر چھا رہا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues