درخواست کے بغیر
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۲۹
ایک بار میں ایک دیہات میں گیا ہوا تھا۔
وہاں میں نے دیکھا کہ ایک شخص نے نیم کا درخت کاٹا اور اس کے بعد اس کے تنے کا چھلکا اتار نے لگا۔ " آپ اس کا چھلکا کیوں آتار رہے ہیں، میں نے دیہات کے اس آدمی سے پوچھا۔ اس نے مسکرا کر جواب دیا : " اگر چھلکا نہ اتارا جائے تو اس کے اندر کیڑے لگ جائیں گے اور لکڑی کو خراب کر دیں گے۔ یہ دس سال پہلے کی بات ہے۔ اگست ۱۹۷۵ میں دوبارہ مجھے ایک اور دیہات میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ نیم کا ایک کٹا ہوا تنہ پڑا ہے۔ ایک شخص نے اپنے گھر کے پاس نیم کا ایک درخت کاٹ دیا تھا مگر اس کا چھلکا نہیں اتارا تھا۔ یہ دیکھ کر مجھے دس سال پہلے والی بات یاد آئی۔ میں نے سوچا کہ تجربہ کر کے دیکھوں کہ اس کی بات صحیح بھی یا نہیں۔ میں نے اس کے گھر کے ایک آدمی سے کہا کہ کوئی اوزار لاؤ اور اس کا چھلکا اتارو۔ جب اس نے چھلکا اتارا تو میں نے دیکھا کہ چھلکے کے نیچے ایک انچ کے موٹے موٹے کیڑے ہیں یہ کیڑے نہایت نرم تھے مگر انھوں نے تنے کی سطح کو جگہ جگہ اس طرح کاٹ ڈالا تھا جیسے اس کے اندر نالیاں بنائی گئی ہوں۔
یہ قدرت کا نظام ہے۔ قدرت اس طرح سبق دیتی ہے کہ اس دنیا میں تم کو نہایت محتاط رہ کر زندگی گزارنی ہے۔ کیونکہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہاں ایک غلطی تمھاری ساری خوبیوں پر پانی پھیر سکتی ہے۔ ایک غفلت تمھارے سارے امکانات کو برباد کرنے کے لئے کافی ہے۔ قدرت یہ کر سکتی تھی کہ چھلکا اتارے بغیر نیم کے تنے کو محفوظ رکھتی۔ مگر اس نے یہ قانون بنا دیا کہ اس کا مالک اس کا چھلکا اتارے۔ اس کے بعد ہی اس کا تنہ اس دنیا میں محفوظ رہ سکے گا۔
اس قانونِ قدرت کا انطباق اب انسانی زندگی میں دیکھئے ۔
۱۹۴۴ میں جون پور (یو پی) کے دو آدمیوں نے مل کر کاروبار شروع کیا۔ ابتدائی سرمایہ ان لوگوں کے پاس چند سو سے زیادہ نہیں تھا۔ مگر ان کے مشتر کہ کاروبار میں خدا نے برکت دی اور چھ سال میں ان کے کاروبار کی حیثیت ۳۰ ہزار تک پہنچ گئی۔ اب دونوں میں اختلاف شروع ہو گیا اور نتیجہ علیحدگی تک پہنچا۔ ایک ثالث کے مشورہ سے طے ہوا کہ کاروبار تقسیم نہ کیا جائے بلکہ اس کی مالیت کا اندازہ کر کے اس طرح بٹوارہ ہو کہ ایک شخص نصف کے بقدر رقم لے لے اور دوسرے کو اثاثہ سونپ دیا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور ایک شخص کو مال و اسباب اور دوسرے کو نقد پندرہ ہزار روپے دے دیئے گئے۔
۱۹۴۹ میں پندرہ ہزار روپے آج کی قیمت کے لحاظ سے ایک لاکھ سے بھی زیادہ تھے۔ جس شخص نے نقد رقم لی تھی، اس نے جون پور کے ایک بازار میں کپڑے کی دکان کھول لی۔ انھیں شروع ہی سے بڑا اچھا میدان ملا اور ایک سال میں ان کا سرمایہ دگنا ہو گیا۔ اپنے کاروبار کے دوسرے سال میں وہ اس طرح داخل ہوئے کہ ان کے سامنے ترقی اور کامیابی کا ایک نہایت وسیع دروازہ کھلا ہوا تھا۔ مگر اب ایک کم زوری نہایت آہستگی سے ان کے اندر داخل ہو گئی۔ وہ خرچ کے بارے میں لاپروا
‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues