Al-Risala · April 1977 · page 30

درخواست کے بغیر

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۳۰

ہو گئے ۔ اپنی ذات پر ، بیوی بچوں پر اور دوستوں پر ان کا خرچ بے حساب بڑھ گیا ۔ وہ بھول گئے کہ دن بھر کی بکری سے ایک ہزار روپئے جوان کے گلہ میں آئے ہیں ان میں سے صرف ۱۰ فی صدا ن کا ہے ، باقی ۹۰ فی صد مہاجن کا ہے۔ وہ اپنے گلہ کی رقم اس طرح خرچ کرنے لگے گویا یہ سارا روپیہ ان کی آمدنی ہے، ٹھیک ویسے ہی جیسے وکیل کی جیب میں فیس کی جو رقم آتی ہے وہ سب اس کی آمدنی ہوتی ہے۔

دکان داری کے ساتھ اس قسم کی شاہ خرچی نہیں چل سکتی ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ چند سال میں وہ دیوالیہ ہوگئے ۔ ان کے پاس پندرہ ہزار میں سے ایک روپیہ بھی باقی نہ رہا۔ اس واقعہ کے بعد وہ تقریباً پندرہ سال تک زندہ رہے۔ مگر دوبارہ کوئی کام نہ کرسکے ۔ کسی نے مشورہ دیا کہ تبلیغ میں " چلے " دے دو تو تمھارا کام بن جائے گا۔ انھوں نے یہ بھی کیا۔ مگر واپسی کے بعد پہلے سے بھی زیادہ برا حال ہو گیا۔ یہاں تک کہ پریشانی کے عالم میں وہ ۱۹۷۱ء میں ایک جیپ سے ٹکرا گئے اور سڑک ہی پر ان کا انتقال ہو گیا۔

یہ ایک انفرادی واقعہ ہے جس میں نظر آ رہا ہے کہ زندگی میں ایک غلطی کس طرح سارے امکان کو برباد کر دیتی ہے اور آدمی کو ناکامی کے آخری کنارے پہنچا دیتی ہے۔

اب ایک قومی مثال لیجئے ۔ انیسویں صدی کے نصف آخر کا مصری حکمراں خدیو اسمٰعیل پاشا (۱۸۹۵ء ۔ ۱۸۳۰) نہایت اولی صلاحیت کا مالک تھا۔ اس نے ایسی پالیسی اختیار کی کہ مصر عملی طور پر ترکی سے آزاد ہو گیا۔ بحر احمر اور بحر روم کو ملانے کے لئے نہر سوئز کا منصوبہ جو ۱۸۶۶ میں بنا وہ اس لئے مکمل ہو سکا کہ اس وقت کے اس مصری حکمراں نے اس تجویز کی اہمیت کو سمجھ لیا اور اس کی منظوری دے دی۔ وہ پہلا شخص ہے جس نے مصر میں ۱۸۶۷ میں اسمبلی کے طریقے کو رائج کیا۔ اس کی زندگی میں اس طرح کے بہت سے واقعات ہیں جو اس کی اعلیٰ صلاحیت کو ثابت کرتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود اسمٰعیل پاشا اس قدر نا کام ہوا کہ ۱۸۷۹ میں اس کو اپنے بیٹے توفیق پاشا کے حق میں تخت و تاج چھوڑ نا پڑا۔ اس نا کامی کی واحد وجہ خدیو اسمٰعیل پاشا کا حد سے بڑھا ہوا اسراف تھا۔ مصر میں اپنی روز مرہ فضول خرچیوں کے علاوہ جب وہ باہر (ترکی، فرانس وغیرہ) جاتا تو وہاں بے تحاشا دولت برباد کرتا۔ بعض مورخین نے اندازہ لگایا ہے کہ اس کے قرضوں کی مقدار ۱۱۰ ملین پونڈ تک پہنچ گئی تھی ۔ مزید یہ کہ ملک کے بیت المال، خیراتی اوقات اور یتیموں اور بیواؤں کے فنڈ سے بھی اس نے قرض لے رکھا تھا جو تقریباً ۳۰۰۰۰ ۵ پونڈ کے برابر تھا، ان قرضوں کی ادائیگی کے لئے اس نے مصری عوام کے اوپر ٹیکسوں کا بوجھ لا د دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے زمانے میں چالیس قسم کے ٹیکس نافذ تھے۔ عبدالرحمن الرافعی کی کتاب اسماعیل اور یوسف نحاس کی کتاب الفلاح میں اس کے ٹیکسوں کی جو تفصیل درج ہے وہ انتہائی ہیبت ناک ہے۔ مثلاً قدیم مصری کسان ایک لباس پہنتے تھے جس کو زعبوط کہا جاتا تھا۔ اسماعیل پاشا کی حکومت نے اس کپڑے پر بھی ٹیکس لگا دیا۔ ایک زعبوط پر ایک ریال ٹیکس تھا۔ ادائیگی کے وقت زعبوط کی آستین پر ایک مہر ڈالی جاتی تھی ۔ بدقسمتی یہ تھی کہ یہ مہر پانی لگنے سے چھوٹ جاتی تھی۔ اس لئے کسان اپنے زعبوط کو دھوتے ہوئے اس کے مہر کے حصے کو چھوڑ

‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues

Printed page