درخواست کے بغیر
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۳۱
دیتا۔ کیونکہ معلوم تھا کہ ٹیکس وصول کرنے والے ہر وقت بازاروں میں گھومتے رہتے تھے مہر کا نشان مٹتے ہی اس کے اوپر دوسرا ریال لگا دیں گے۔ ٹیکسوں کی اس کثرت کے باوجود یہ حال تھا کہ دو سال تک سرکاری ملازموں اور فوجیوں کو تنخواہیں نہ دی جا سکیں۔ مگر قرض کی ادائیگی کے لئے یہ سارے ٹیکس بھی ناکافی ثابت ہوئے۔ کیونکہ اسماعیل پاشا کا اسراف بھی اسی کے ساتھ برابر جاری تھا۔ آخر وہ اندوہناک واقعہ ہوا جس نے مصر کی تاریخ بدل ڈالی۔ اسماعیل پاشا نے قرضوں کی ادائیگی کے لئے نہر سوئز میں حکومت مصر کے حصہ کو ۱۸۶۷ میں انگلستان کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ جب اس سے بھی قرضوں کا بوجھ ختم نہ ہوا تو اس نے فرانس کے قرضوں کے معاوضہ میں فرانس کو انگلستان کے ساتھ سوئز میں شریک قرار دے دیا۔ اور سوئز کے اوپر جہاں پہلے انگلستان اور مصر کا کنٹرول تھا، اب فرانس اور انگلستان کا کنٹرول قائم ہوگیا اور اسی کے ساتھ مصر میں ان کی سیاست کے داخلہ کا دروازہ بھی کھل گیا۔ جمال عبدالناصر کا ۱۹۵۶ میں سوئز کو نیشنلائز کرنا، اسماعیل پاشا کی اسی غلطی کی اصلاح تھا۔ مگر صدر ناصر نے یہ دوسری غلطی کی کہ اسراف کی اصلاح نا عاقبت اندیشانہ اقدام سے کرنی چاہی جو مصر کے حق میں پہلے سے بھی زیادہ مہنگی ثابت ہوئی۔
زندگی، خواہ افراد کی ہو یا قوموں کی، نہایت نازک امتحان ہے۔ یہاں ہر ایک کے حوصلہ اور ہوش مندی کی جانچ ہو رہی ہے۔ ہمیں ہر وقت چوکنار رہنا ہے۔ کیونکہ کوئی ایک غلطی بھی اتنی فیصلہ کن ہو سکتی ہے کہ ہماری ساری امیدوں پر پانی پھیر دے اور ہمارے لئے بالآخر حسرت دیاں کے سوا اور کچھ نہ چھوڑے۔
ابو عبداللہ لسان الدین معروف بہ ابن الخطیب (۱۳۲۲-۱۳۷۴ء) غرناطہ میں پیدا ہوا۔ عربی زبان و ادب، علوم دینیہ، فلسفہ و طب، ریاضی و تاریخ میں وقت کی اعلیٰ ترین تعلیم حاصل کی۔ مگر حاکم غرناطہ ابو الحجاج یوسف (۱۳۵۴-۱۳۵۹ء) کے دربار میں اس کو جس چیز نے پہنچایا، وہ اس کی ادب و شاعری تھی۔ سلطان نے اس کو اپنا سیکرٹری بنا لیا۔ اس کے بعد اس کو وزیر کا منصب عطا ہوا۔ ابو حجاج کے بعد اس کا بیٹا محمد خامس تخت نشین ہوا تو اس نے بھی اس کو دفتار پر بحال رکھا۔ مگر اس کی ترقی نے اس کے حاسدوں کی تعداد بہت بڑھادی۔ انھوں نے بادشاہ کو اس کے خلاف بد گمان کر دیا۔ وہ غرناطہ سے بھاگ کر افریقہ پہنچا۔ یہاں بھی ابتداء اس کی عزت و تکریم ہوئی ۔ اس کے بعد کچھ لوگوں نے فقہا کو اس کے خلاف بھڑکایا۔ انھوں نے اس کے الحاد کا فتویٰ دے دیا۔ چنانچہ کچھ جو شیلے لوگ دیوار پھاند کر اس کے گھر میں گھس گئے اور گلا گھونٹ کر اس کو مار ڈالا۔
کہا جاتا ہے کہ جس طرح افریقہ میں علم و ادب کی امامت ابن خلدون پر ختم ہو گئی اسی طرح اندلس میں علم و ادب کی امامت ابن الخطیب پر ختم ہوئی۔ ابن الخطیب کا تاریخ میں بہت بلند مقام تھا۔ اس نے تقریباً ۶۰ تصنیفات چھوڑی ہیں۔ الاحاطہ فی تاریخ غرناطہ (تین جلدیں) غرناطہ کی شخصیتوں کے لئے تاریخی ڈکشنری کی حیثیت رکھتی ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues