Al-Risala · April 1977 · page 32

درخواست کے بغیر

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۳۲

زمین کے اندر سے تیل نکالنے کا کام جدید تاریخ میں ۱۸۵۹ میں شروع ہوا جب کہ امریکہ کے ایڈون ایل۔ ڈریک نے پنسلوانیا میں ۷۰ فٹ کی گہرائی سے تیل نکالنے میں کامیابی حاصل کی۔ شرقِ اوسط میں تیل کی دریافت پہلی بار ۱۹۰۸ء میں مسجد سلیمان میں ہوئی۔ اس وقت عرب دنیا پر ترکوں کی حکومت تھی۔ مغربی کمپنیوں نے عثمانی سلطنت سے اس علاقہ میں تیل نکالنے کی خصوصی مراعات حاصل کر لیں۔

جدید صنعتی دنیا کی قوت اور ترقی کا راز یہی تیل ہے ٹھیک ویسے ہی جیسے زراعت کے لئے پانی اور انسانی جسم کے لئے خون ہوتا ہے۔ حیرت انگیز بات ہے کہ اس قدرتی دولت کا بڑا حصہ اسی زمین کے نیچے دفن ہے جس کو شرق اوسط یا خلیج فارس کے ممالک کہا جاتا ہے۔ موجودہ صدی کے آغاز سے لے کر اب تک یہ دولت تمام تر مغرب کی صنعتی قوموں کے قبضہ میں رہی ہے۔ ان قوموں کی ترقی کا اصل راز وہ سستا ایندھن تھا جو انھیں نہایت آسانی سے مسلسل شرق اوسط سے مل رہا تھا۔ مسلم دنیا کے تیل سے طاقتور ہو کر وہ مسلم دنیا کے اوپر چھائے رہے۔ اکتوبر ۱۹۷۳ء کی جنگ میں تیل کے حربہ کا استعمال وہ بھی شعوری طور پر نہیں بلکہ زیادہ تر "گر بہ عاجز" کی نفسیات کے تحت پہلا تجربہ تھا، جب کہ لوگوں کو معلوم ہوا کہ تیل ایک طاقت ہے، اتنی بڑی طاقت کہ اس کا جزوی استعمال بھی پوری صنعتی دنیا کو ہلا سکتا ہے۔ آج شرق اوسط کی زمین سے جو تیل نکالا جا رہا ہے اس کی قیمت ۲۰ کروڑ ڈالر سالانہ سے بھی زیادہ ہے۔ دولت کے اس سیلاب نے خلیج فارس کے ملکوں کو اچانک اس قدر مالامال کر دیا ہے کہ تعیشات کی ہر قیاسی مد اس کے (رسالہ اپریل ۱۹۷۷ء)

استعمال کے لئے ناکافی ہے۔ عالمی بنک کے اندازہ کے مطابق ۱۹۸۵ ء تک تیل کے ممالک کے پاس، تمام ممکن مدوں میں مسرفانہ حد تک خرچ کرنے کے بعد بھی، ایک ٹریلین ڈالر کے بقدر فاضل رقم موجود ہوگی۔

تیل کی دولت کے اس ارتکاز کو جغرافی اتفاق (ACCIDENT OF GEOGRAPHY) کہا جاتا ہے۔ مگر ماہرین ارضیات کے اس قیاس سے زیادہ یقینی بات وہ ہے جو قرآن میں بتائی گئی ہے۔ قرآن کے مطابق، اس دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے، وہ تمام تر خدائی فیصلہ کے تحت ہوتا ہے، خواہ ظاہری آنکھوں کو واقعات کے پیچھے خدائی ہاتھ کام کرتا ہوا نہ دکھائی دے۔

خدا نے یہ دولت مسلم ممالک کو کیوں دی ہے، اس پر غور کیا جائے تو سب سے پہلے یہ حدیث ہمارے سامنے آتی ہے:

يوشك ان يحسر الفرات عن كنز من ذهب شكوى من اهالي الحي پاکستان سے تقریباً چار سو خاکروب سعودی عرب بھیجے گئے ہیں، سعودی عرب کے اخبار الرياض (۲۳ دسمبر ۱۹۷۶ء)

کا یہ کارٹون اسی پس منظر میں ہے ایک عرب پاکستانی خاکروب کو عربی آمیز اردو میں کوڑا کرکٹ کی صفائی کے لئے ہدایات دے رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues

Printed page