Al-Risala · April 1977 · page 33

فمن حضره فلا يأخذ منه شيئاً

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۳۳

فمن حضره فلا يأخذ منه شيئاً

قریب ہے کہ فرات سے سونے کا خزانہ نکلے، اس وقت جو موجود ہو، وہ اس میں سے کچھ نہ لے۔

یہ حدیث غالباً اسی سیال سونا (LIQUID GOLD) کے بارہ میں ہے جس کو تیل کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ قدرتی دولت جو خلیج فارس کے علاقہ میں ظاہر ہوگی، وہ ذاتی عیش کے لئے نہ ہوگی۔ اس کے بعد جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ حرم کی توسیع اور مقامات مقدسہ کی عمارتیں ترمیم کے لئے ہے، ان کو قرآن کی سورہ توبہ آیت ۱۹ اجعلتم سِقَایَةَ الْحَآجَّ الخ) کا مطالعہ کرنا چاہئے ۔ اصل یہ ہے کہ تیل کا یہ قدرتی خزانہ مسلمانوں کی صنعتی پس ماندگی کی تلافی ہے۔ موجودہ دور میں مسلمان صنعت و تجارت میں دوسری قوموں سے پیچھے ہوگئے تھے، حتیٰ کہ بعض مغربی ماہرین کو یہ کہنے کی جرأت ہوئی کہ یہ ممالک اب کبھی بھی ، اقتصادی حیثیت سے، مغربی اقوام کے برابر نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ ہزار کوششوں کے بعد جب وہ صنعتی دور (INDUSTRIAL AGE) میں پہنچیں گے تو ترقی یافتہ "دنیا مافوق صنعتی دور (SUPER INDUSTRIAL AGE) میں پہنچ چکی ہوگی ۔

تیل کی دولت کے ظہور نے صورت حال کو اچانک طور پر بدل دیا ہے۔ عالمی بنک کی رپورٹ نمبرے، ۱۴۰۳) کے مطابق پٹرولیم برآمد کرنے والے اوپیک ممالک کے ہاتھ میں آج تیل کی عالمی تجارت کا ۸۵ فی صد حصہ ہے۔ اس طرح انھوں نے جدید دنیا میں کلیدی اقتصادی پرزہ (ECONOMIC LEVERAGE) کی حیثیت حاصل کرلی ہے۔ مسلم ملکوں کے پاس تیل کی دولت کے ظہور نے انھیں اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ اس مشن کی انجام دہی کی بڑی سے بڑی قیمت دے سکیں جو خدا نے ان کے ذمہ کیا ہے۔ یہ مشن ہے دنیا کی قوموں کو خدا کے پیغام سے باخبر کرنا۔ لوگوں کو بتانا کہ مرنے کے بعد وہ اپنے مالک کے رفیع... ایدر جائیگا! ایدر جائیگا (الزبالة هندسة بالتفل "هائگا هایگا")

الکلمات اللغویة وسیمة دو صفحہ پر... الخرحی

‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues

Printed page