توقیر احمد ایم اے
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۳۹
کے __چلو میں بنتی ہیں ۔ موجودہ زما کا فکری ڈھانچہ تمام تر سیکولر بنیادوں پر قائم ہے ۔ ایسی حالت میں کسی کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنے ملک میں اسلام کا سیاسی جزیرہ بنا سکے، جب تک وہ زمانی افکار کے ڈھانچہ کو توڑنے میں کامیاب نہ ہو گا۔ ۴۔ تعمیر و استحکام سے میری مراد وہ فکری حلقہ ہے جس کا کہنا تھا کہ اجنبی اقتدار سے براہ راست سیاسی تصادم نہ کیا جائے ۔ اس کو بطور چھتری استعمال کرتے ہوئے غیر سیاسی دائروں میں اپنے کام کو جاری رکھا جائے ۔ بدقسمتی سے یہی وہ ذہن ہے جو موجودہ دور کے مسلمانوں میں سب سے کم پایا گیا ہے۔ مفتی محمد عبدہ نے پیرس میں زمانہ قیام (۱۸۸۸ء) سے متعلق اپنے استاد جمال الدین افغانی کا ایک تاثر نقل کیا ہے۔ محمد عبدہ نے ایک گفتگو کے دوران اپنے استاد سے کہا کہ انگریزیوں اور فرانسیسیوں سے سیاسی تصادم کا بظاہر کوئی فائدہ دکھائی نہیں دیتا۔ جب کہ دوسری طرف ہمارے لیے کام کا ایک ایسا میدان کھلا ہوا ہے جس میں ہم یقینی نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ ہے یورپ اور امریکہ میں اسلام کی تبلیغ ۔ ہم کیوں نہ ایسا کریں کہ اپنے کو سیاسی نشانہ سے ہٹادیں اور خاموشی سے تبلیغ و تعلیم کے کام میں لگ جائیں ۔ جمال الدین افغانی کی انقلابی طبیعت کو یہ تجویز حقیر معلوم ہوئی۔ انھوں نے کہا: انما انت مثبط (تم پست حوصلگی کی باتیں کرتے ہو)
اس پورے دور میں تعمیر واستحکام کے مقصد کے تحت اٹھنے والی کوئی قابل لحاظ تحریک نہیں آتی۔ مسلم رہنماؤں کا حال یہ رہا کہ وہ " نہ زمانہ باتونساز نہ تو بازمانہ ستیز " جیسے رومانی تصورات پر فدا ہوتے رہے، کسی کی سمجھ میں وہ حقیقت پسندانہ طریقہ کار نہ آسکا جس کو بدنام طور پر پرچائی (۱۸۳۷۔ ۱۹۱۴ء) نے ان لفظوں میں بیان کیا تھا: ۔۔ جلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی۔
ہندوستان میں اس سلسلہ میں مستثنیٰ مثالیں ملتی ہیں، وہ بھی بدنام شخصیتوں کی۔ میری مراد سرسید احمد خاں (۱۸۹۸ء۔ ۱۸۱۷ء) اور مرزا غلام احمد قادیانی (۱۹۰۸ء۔ ۱۸۳۵ء) سے ہے۔ اول الذکر کا کہنا تھا کہ انگریز نے اگرچہ سیاسی کام کا راستہ بند کر رکھا ہے مگر سیاست کے علاوہ دوسرے میدانوں میں تعمیر و ترقی کے دروازے کھلے ہوئے ہیں: حکومت نے آزادیاں تم کو دی ہیں ترقی کی راہیں سراسر کھلی ہیں تعلیم اور اقتصادیات ، جو بقیہ چیزوں کی اساس ہے، ان میں ہم کسی رکاوٹ کے بغیر آگے بڑھ سکتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اسی امکان کو ایک اور میدان میں تلاش کیا۔ یہ دعوت و تبلیغ کا میدان تھا۔ ان کا خیال تھا کہ دعوت کی راہ سے ہم نہ صرف ملک کے طبقات میں اپنے لئے کام کے مواقع پاسکتے ہیں بلکہ حکمراں قوم کے اندر بھی ہمارے لئے جد وجہد کا میدان کھلا ہوا ہے۔ مزید یہ کہ یہ کام خود اسلام کا اہم ترین مقصود ہے اور بالآخر اس غلبہ تک بھی پہنچانے والا ہے جہاں ہم سیاسی زور آزمائی کے ذریعہ ناکام طور پر پہنچنا چاہتے ہیں۔
یہ دونوں تحریکیں، اپنی ابتدائی شکل میں ، نہایت مفید اور دور رس تحریکیں تھیں۔ مگر بدقسمتی سے وہ عام مسلمانوں کو اپنے ساتھ نہ لے سکیں۔ اس کی وجہ دو طرفہ تھی۔ ایک طرف ہمارے رہنماؤں کا ذہن سامراج دشمن خیالات سے اتنا زیادہ ماؤف ہو چکا تھا کہ کسی اور انداز سے سوچنا ان کے لئے ممکن نہ رہا تھا۔ ہر وہ شخص انھیں سامراج کا ایجنٹ
‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues