Al-Risala · April 1977 · page 40

توقیر احمد ایم اے

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۴۰

دکھائی دیتا تھا، جو سامراج سے سیاسی مقابلہ کی بات کرے۔ اس کی آخری حد یہ ہے کہ علی گڑھ کے سابق استاد پروفیسر آرنلڈکی قیمتی کتاب پر پیکنگ آف اسلام ہمارے رہنماؤں کو سامراجی اغراض کے تحت لکھی ہوئی کتاب نظر نہ آئی، کیونکہ اس میں تلوار کے بجائے پرامن تبلیغ کو اسلام کی اشاعت کا ذریعہ بتایا گیا تھا !

دوسری وجہ یہ ہوئی کہ اس نظریہ کے دونوں علم بردار اس اہلیت کا ثبوت نہ دے سکے کہ وہ اپنے نقطہ نظر کی صحیح وکالت کر سکتے ہیں۔ سرسید احمد خاں نے اپنے موقف کی حمایت کے لیے یہ نادانی کی کہ قرآن کو انیسویں صدی کے مغربی افکار پر ڈھالنا شروع کر دیا۔ ان کے اخلاص کے ثبوت کے لیے یہ کافی ہے کہ انھوں نے "تہذیب الاخلاق" کو اپنے ذاتی فکر کا نمائندہ قرار دے کر اس کو علی گڑھ کالج سے علیحدہ رکھنے کی کوشش کی۔ مگر یہ تقسیم عملی طور پر ممکن نہ ہوسکی اور ایک صحیح کام کے لئے غلط استدلال نے ان کے مشن کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ بنا دیا۔

اسی قسم کی غلطی دوسری شکل میں مرزا غلام احمد قادیانی نے کی۔ انھوں نے اپنے کام کا آغاز کیا تو یہ وہ وقت تھا جبکہ سارے مسلم رہنما انگریز کے خلاف جہاد حریت میں مصروف تھے۔ ان پر جوش مجاہدین کو محسوس ہوا کہ قادیانی مشن مسلمانوں کو مقدس جہاد کے محاذ سے ہٹا کر پرامن تبلیغ کے میدان میں لگا دینا چاہتا ہے۔ مرزا صاحب نے اس کے جواب میں کہا کہ جہاد بمعنی سیاسی مقابلہ) کوئی مستقل شرعی حکم نہیں ہے۔ وہ صرف دفاعی ضرورت کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ مگر ہمارے مجاہدین حریت کے لئے یہ جواب تشفی بخش ثابت نہ ہوسکا اور انھوں نے فتویٰ دیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی انگریزوں کے ایجنٹ ہیں۔ اب مرزا صاحب نے ایک اور قدم بڑھایا۔ انھوں نے اپنی بات کو مستند ثابت کرنے کے لئے کہنا شروع کیا کہ ان پر وحی آتی ہے اور وہ جو کچھ بولتے ہیں خدا کی طرف سے بولتے ہیں۔ یہ دعویٰ اپنی تمام تر غلطی کے باوجود، قدیم زمانہ میں انوکھا نہ تھا کیونکہ ہمارے بہت سے بزرگ، مثال کے طور پر شاہ ولی اللہ (۱۷۶۳ء - ۱۸۰۲ء) بھی، (الهمنی ربی (میرے رب نے مجھ کو الہام کیا) جیسی زبان میں کلام کرتے ہیں۔ تاہم مرزا صاحب کی غلطی میں مزید شناعت اس لئے پیدا ہو گئی کہ انھوں نے صاف لفظوں میں اپنے رسول اللہ ہونے کا دعویٰ کر دیا جو ، ختم نبوت کے بعد، اجماعی طور پر کفر کو مستلزم ہے۔ ان چیزوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ دو فریقوں کے درمیان جو گفتگو " حالات کے لحاظ سے اسلامی عمل کی منصوبہ بندی " کے عنوان پر ہونی چاہئے تھی، وہ قرآن کی تفسیر جدید اور نبوت محمدی کے بعد دوسری نبوت جیسے مسائل پر مرکوز ہو گئی۔ آغاز میں اگر سرسید احمد خاں اور مرزا غلام احمد قادیانی کے مخالفین غلطی پر تھے تو آخر میں سرسید اور مرزا قادیانی شدید تر غلطیوں کا شکار ہوگئے اور ملت کے حصہ میں کفر و فسق کے فتووں کے سوا اور کچھ نہ آیا ۔

مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے زیر اہتمام ۲۲ - ۲۵ جنوری ، ۱۹۷۰ء ایک سیمینار ہوا۔ عنوان تھا :

" اسلام ایک تغیر پذیر دنیا میں " ISLAM IN A CHANGING WORLD یہ مقالہ اس موقع پر ۲۵ جنوری کی نشست میں پڑھا گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues

Printed page